جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

بھارت سے مونگ پھلی کی درآمد پر پابندی عائد ٗمقامی پیداواربہت ہے،مونگ پھلی مہنگی نہیں ہوگی،تاجر

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے زرعی خطرات کے پیش نظر بھارت سے مونگ پھلی کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کسٹمز حکام کو ارسال کردہ مراسلے کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ بھارت سے درآمد ہونے والی مونگ پھلی میں زرعی بیماریاں

موجود ہیں جن سے پاکستان کی زراعت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے لالہ انٹرپرائزز کراچی کی بھارت سے درآمد کی جانے والی لاکھوں روپے مالیت کی 54 ٹن سے زائد مونگ پھلی کی کھیپ کو واپس بھجوانے یا واپس نہ ہونے کی صورت میں تلف کرنے کے احکام جاری کردیے ہیں۔دوسری جانب کسٹمز حکام نے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بھارت سے درآمد کی جانے والے لاکھوں روپے مالیت کی مونگ پھلی کی کلیئرنس روک دی گئی جس سے مونگ پھلی کے درآمد کنندگان میں تشویش پھیل گئی ہے اور بھارت سے روانہ ہوچکی مونگ پھلی کے سودے خطرے میں پڑگئے ہیں۔درآمد کنندگان کے مطابق چین سے مونگ پھلی کی درآمد پہلے ہی بند کی جا چکی ہے اور اب 3روز قبل بھارتی مونگ پھلی کے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد مونگ پھلی کے چھلکے میں بیماری کی موجودگی کو جواز بناکر بھارتی مونگ پھلی کی کلیئرنس بھی روک دی گئی ہے۔ادھر جوڑیا بازار میں مونگ پھلی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے مونگ پھلی کی درآمد سے مارکیٹ میں مونگ پھلی کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پاکستان میں سکھر اور پاراچنار کی مونگ پھلی وافر مقدار میں دستیاب ہے، بھارتی مونگ پھلی پاکستانی مونگ پھلی سے سستی ہونے کی وجہ سے درآمد کی جارہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…