ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

’’جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے‘‘ ایبٹ آباد میں مردہ بچا زندہ ہو گیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

ایبٹ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایوب میڈیکل کمپلیس میں ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا، والدین مبینہ لاش گھر لے گئے تو معلوم ہوا کہ بچہ زندہ ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’آج نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ننھی سی جان کو تو اللہ نے محفوظ رکھا لیکن ان مسیحاؤں کا کیا کریں جن کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں غافل ڈاکٹرز نے حد کرڈالی۔نومولود کو مردہ قرار دیکر اسٹریچر پر پٹخ دیا۔والدین

بچے کی مبینہ لاش گھر لے گئے، کچھ گھنٹے بعد انکشاف ہوا کہ بچہ تو زندہ ہے۔ سجاول اب آٹھ روز کا ہوچکا ہے۔دوسری جانب واقعے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔دوسری جانب ضلع کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں زچگی کے دوران مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی نعشیں کوڑے میں پھینکی جانے لگیں۔نجی ٹی وی کے مطابق ایبٹ آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ زچہ و بچہ کا عملہ زچگی کے دوران لیبر روم میں دم توڑ جانے والے نومولود بچوں کی نعشوں کی تدفین کے بجائے انہیں کوڑے میں پھینک رہا ہے۔ جہاں یہ نعشیں کتوں اور چیل کووں کی خوراک بن رہی ہیں۔دوسری جانب ایوب میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے اس مجرمانہ اور انسانیت سوز اقدام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تردید یا تصدیق سے انکار کردیا ہے۔ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ہی کام کرنے والے ایک شخص سجاول نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی مجرمانہ غفلت سے متعلق بتایا کہ چند روز قبل اس کی بیوی نے ہسپتال میں ہی بیٹے کو جنم دیا لیکن لیڈی ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے کر اسٹریچر پر ہی ڈال دیا۔ کچھ دیر بعد جب ماں اپنے بچے کو آخری بار دیکھنے کے لیے وہاں پہنچی تو اس نے بچے میں حرکت کو محسوس کیا ، جس پر پتہ چلا کہ درحقیقت بچہ ناصرف زندہ ہے بلکہ مکمل طور

پر تندرست بھی ہے۔ واقعے کے بعد سجاول اپنی بیوی اور نومولود کو گھر لے آیا۔ سجاول کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث لیڈی ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…