بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پہلے حملہ پھر جنگ کے اخراجات کی وصولی، امریکہ نے افغانستان کو لوٹ لیا، ایک ٹریلین ڈالر مزید وصول کرنے کا منصوبہ، چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر

datetime 6  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کمپنوں کا افغانستان میں موجود ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنیات نکالنے کا منصوبہ۔ تفصیلات کے مطابق ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ آج سے تقریباً 8 سال پہلے افغانستان کے معدنی ذخائر کی تمام تفصیلات حاصل کر چکا ہے اور اب تک وہ افغانستان سے 500 ملین ڈالر کے معدنی ذخائر لے جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے دوست راس کی قیادت میں افغانستان کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مینجمنٹ کمیٹی بنائی گئی ہے

اور اس نے افغانستان کے حکام کو کہا ہے کہ امریکہ کی 30 کمپنیوں کو معدنیات کے ذخائر تک براہ راست رسائی دی جائے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ پر جتنا خرچا کیا ہے وہ افغان حکومت نے واپس کرنا ہے اس لیے افغانستان ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنیات کے ذخائر تک براہ راست رسائی دے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ جنگ کے اخراجات برداشت کر سکے اس لیے یہاں موجود معدنی ذخائر جن میں کاپر، ORE اور دیگر ارتھ میٹریل شامل ہیں امریکہ کی تحویل میں دے اور اس دوران افغانستان کے عوام کو یہاں روزگار بھی دیا جائے گا جس سے یہاں کی عوام کے حالات بہتر ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے منصوبے کی جو تفصیلات افغان حکام کو دی گئی ہیں، ان میں جواہرات میں استعمال ہونے والے قیمتی پتھروں میں امریکہ کی طرف سے کوئی دلچسپی نہیں لی گئی لیکن جنوبی، مشرقی اور وسطی افغانستان میں پائی جانے والی وہ دھاتیں جو ایٹمی ہتھیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، سپیس ٹیکنالوجی اور موبائل ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، امریکہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے 2006-07ء میں جیولوجیکل سروے کرایا گیاتھا

جس افغانستان میں ٹریلین ڈالرز مالیت کے معدنی ذخائر کا پتہ چلا تھا، امریکی حکومت نے اس سروے سے مطمئن نہ ہونے پر 2009ء میں یو ایس ایڈ ماہرین کی مدد سے افغاستان کا سروے کروایا۔ اس سروے کے بعد امریکی کمپنیوں نے 2014ء میں مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ سے 500 ملین ڈالر کی معدنیات امریکی فوج کی نگرانی میں نکالیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دیوالیہ کے قریب ہونے والی 30 کمپنیوں کو بنک ڈیفالٹر سے بچانے کے لیے امریکی صدر نے ان کمپنیوں کے مالکان کے مشورے پر افغانستان میں معدنیات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسی وجہ سے امریکی فوجہ کو غیر معینہ مدت تک ابھی افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…