پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے،بھارتی سپریم کورٹ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی عدالت عظمی نے لو جہاد کے مبینہ معاملے میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر سماعت کرتے ہوئے عدالت کے اختیار پر سوال اٹھایاہے کہ کیا وہ ایک مسلمان لڑکے کی ایک ہندو لڑکی کے ساتھ شادی کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟سپریم کورٹ کیرالہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے میں نیشنل انویسٹیگیٹنگ ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے جانچ

کرانے کے فیصلے پر بھی بظاہر متفق نظر نہیں آئی۔عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران کہاکہ کوئی پیٹرن ہو یا نہیں ہو، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہائی کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے شادی کو کالعدم قرار دینے کا حق ہے یا نہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے لڑکی کے والد سے کہاکہ وہ ایک 24 سالہ لڑکی پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتے۔خیال رہے کہ ایک ہندو لڑکی اکھیلااسوکن نے مبینہ طور پر سنہ 2013 میں اسلام قبول کر لیا تھا اور انھوں نے دسمبر سنہ 2016 میں شفین جہان سے شادی کر لی تھی۔ اکھیلا کا نام اب ہادیہ ہے۔شفین جہان نے عدالت میں شادی کو کالعدم قرار دیے جانے اور این آئی اے سے جانچ کرائے جانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے لڑکی کے والد سے کہا کہ وہ 24 سال کی ہے۔ آپ اسے کیسے کنٹرول سکتے ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے ہم (لڑکی کے لیے) نگہبان مقرر کر سکتے ہیں۔ والد یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیشہ 24 سال کی اپنی بیٹی پر کنٹرول رکھیں گے۔ان کو جب کہا گیا کہ وہ چیخیں نہیں تو انھوں نے کہا

کہ ‘میں چیخوں گا۔’ انھوں نے مزید کہاکہ نہ تو ریاست نے اپیل کی تھی نہ والد نے اپیل کی تھی نہ این آئی اے نے اپیل کی تھی پھر کس طرح معزز جج نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاتے ہوئے جانچ کا حکم دے دیا تھا۔انھوں نے عدالت سے پوچھاکہ اس جانچ نے اس کثیر مذہبی ملک کی بنیاد

کو ہلا دیا ہے۔ بی جے پی میں اقلیتی برادری سے آنے والے دو بڑے اہلکار نے ہندو عورتوں سے شادی کر رکھی ہے کیا حضور والا اس معاملے میں بھی این آئی اے کی جانچ کا حکم دیں گے؟ اس حکم نے دنیا بھر میں خوفناک پیغام بھیجا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…