جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہر مشکل میں پر سکون رہیے…!

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

 
سب سے پہلے آپ یہ حقیقت ذہن نشین کر لیجیے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ اس میں ہمیشہ خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اور دکھوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔یاد رکھیے کہ زندگی دکھ سکھ کا متزاج ہے۔ تلخی اور شیرینی کا ا?میزہ ہے۔ اتار چڑھاﺅ کا نام ہے بلندی اور پستی کا نام ہے۔ یہ پھولوں کی سیج بھی ہے اور کانٹوں کا بستر بھی۔ خوشیاں اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ زندگی ایک سچائی ہے خواب نہیں۔۔۔! اس میں مشکلات بھی ہیں آسانیاں بھی۔ زندگی نشیب و فراز سے عبارت ہے ! دوسری بات جو میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دنیا مسائل اور مصائب کا گھر ہے۔ دنیا میں کوئی کسی نہ کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے۔ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہے۔ مسائل میں فرق ہو سکتا ہے اعداد و شمار میں نہیں۔۔۔ مسائل اور مشکلات کے کئی روپ ہیں۔ مثلاً۔:کوئی جائیداد کے تنازعے میں الجھا ہوا ہے اور کوئی ہمسائے سے دست و گریباں ہے۔ کسی کو معاشی فکر لا حق ہے اور کوئی سیاسی مسائل میں گھیرا ہوا ہے۔۔۔ کوئی گھر دکھ سے خالی نہیں۔ راقم الحروف نے نوجوانی کے دنوں میں ایک کتاب میں پڑھا تھا۔۔۔:”زندگی ایک صداقت ہے ایک حقیقت ہے۔ یہ جابر و ظالم نہیں ہے لیکن ہم اس کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ بہت سے مسائل کو ہم خود دعوت دیتے ہیں۔ جان بوجھ کر اپنی گردن مسائل کے پھندے میں پھنساتے ہیں۔ رائی کا پہاڑ بنا لیتے ہیں۔ غیر ضروری مصروفیات میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ محنت سے جی چراتے ہیں۔جب یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ زندگی میں مسائل اور مصائب کا سامنا سبھی کو کرنا پڑتا ہے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم ان کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں۔ ؟ میرا آزمودہ کلیہ ہے کہ اگر ہم اپنے مسائل اور الجھنوں کا سبب جان لیں تو ہم بڑی آسانی سے ان پر قابو پا سکتے ہیں ان پر غالب آ سکتے ہیں۔ انہیں خوش اسلوبی سے سلجھا سکتے ہیں۔ مشکلات کا شمار نہ تو انعامات میں کیا جاتا ہے اور نہ جرم و سزا میں یہ ہمارے افعال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کا سامنا کرنا چاہیے۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو کوئی مشکل نہیں جو آسان نہیں ہو سکتی ضرورت صرف قوت ارادی، خود اعتمادی اور سوجھ بوجھ کی ہے صبر و تحمل اور برداشت کی ہے۔ مشکلات ہماری دشمن نہیں ہماری دوست ہیں ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہیں ہماری خود اعتمادی اور قوت ارادی میں اضافہ کرتی ہیں ہمیں مقابلے کی دعوت دیتی ہیں۔ ان سے خوف مت کھائیے بلکہ ان کا استقبال کیجیے۔آپ دولت مند بننے کے خواہش مند ہیں یا لیڈر بننے کے آرزو مند ہیں۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ مشکلات ہر راہ میں ہیں۔۔۔ ہر شعبہ حیات میں ہیں۔۔۔ان سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔۔۔ پر سکون رہیے ہر مشکل میں پر سکون رہیے۔! (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف ”آپ چاہیں ،تو امیر بن سکتے ہیں“ سے مقتبس)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…