جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

محمد علی کلے کا۔۔۔لاوارث‘وارث! ’’کوئی ہے جو محمد علی جونیئر کو اس کے باپ سے ملوا دے‘‘

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

قسمت کے کھیل نرالے ہیں ۔ کبھی عرش تو کبھی فرش‘ یہ انسان کے اگر حقیقت سے آشنا ہو جائے تو ا س کائنات میں سب سے بڑی اور پہلی آگاہی یہی ہے کہ انسان بے اختیار ہے ۔ انسان کی محنت اور ارادے ایک طرف مگر تقدیر کے لکھے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ انسانی خواہش ہے کہ اس کے بعد اس کا نام اس کے وارث کی وجہ سے زندہ رہے اور لوگ اس کو یا د کریں ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی خواہش کہ انسان کی بڑھاپے میں دیکھ بھال کو اس کا بیٹا موجود ہو۔ مگر قسمت کچھ یوں بھی پلٹا کھاتی ہے کہ وارث ہوتے ہوئے انسان لاوارث ہو جاتا ہے۔
’’ اکیلا وارث ہوں میں اس کی نفرت کا
جو شخص سارے شہر میں پیا ر بانٹتا ہے‘‘

2
سوتیلی ماں‘ باپ اوربیٹے کے درمیان ایسی دیوار بن چکی ہے جو عالمی ہیرو کے درد میں بھی اضافے کا باعث ہے‘ 70ء کی دہائی میں عالمی نامور باکسر محمد علی کا طوطی بولتا تھا۔ وہ رنگ میں اترتا تو مخالف کے پسینے چھوٹ جاتے‘ اس کا ایک مکا مدمقابل کھلاڑی کو ناک آؤٹ کرنے کیلئے کافی ہوتا تھا۔ وقت گزرتا چلا گیا اورمکے کی طاقت میں کمی ہوتی چلی گئی۔ آج وہ طاقتور محمد علی رعشہ جیسی بیماری کا شکار ہے اور اسکا جسم ہر وقت کانپتا رہتا ہے۔ محمد علی نے چار شادیاں کیں اور 9 بچے ہوئے۔ 9 بچوں میں علی جونیئر اکلوتا بیٹا ہے جو آج کل شکاگو کی گلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس کی اپنے باپ سے ملاقات کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے۔ گزشتہ ماہ محمد علی کی 72 ویں سالگرہ تھی اور علی جونیئر اپنے عظیم باپ کو گلے مل کر مبارکباد دینے کا متمنی تھا۔ مگر ملاقات نہ ہوسکی۔ وہ سارا دن روتا رہا اور اپنے باپ سے ملاقات کا ٹائم لینے کیلئے اپنی سوتیلی والدہ کی منت کرتا رہا مگر اجازت نہ ملی۔ علی جونیئر جانتا ہے کہ زندگی کے اس موڑ پر جب اس کا والد پارکنسن جیسی بیماری کا شکار ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر اسے اس ملاقات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ باکسنگ کے افسانوی کردار محمد علی کا یہ بیٹا اربوں روپے کی جائیداد کا وارث ہونے کے باوجود لاوارثوں کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ کسی بڑے محل کے بجائے گندی غلیظ گلی کے ایک کمرے کے فلیٹ میں رہتا ہے۔ حالات نے اسے تنہا جینا سکھا دیا ہے اور وہ بڑے خواب نہیں دیکھتا۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے والد سے محبت ہے کوئی ان کی ساری جائیداد لے لے لیکن باپ سے دور نہ رکھے۔

3

اس افسوسناک صورتحال پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ لوگ دولت کے پیچھے بھاگتے ہیں دن کا سکون اور رات کا چین گنواتے ہیں لیکن دولت پھربھی کسی قسم کے سکون کا باعث نہیں بنتی۔ علی جونیئر اور اس کے والد کے درمیان یہ دولت سب سے بڑی دیوار بنی کھڑی ہے۔ خود علی جونیئر حیران ہے کہ میرے والد وہ عظیم باکسر تھے جن کی رنگ میں حکمرانی تھی۔ دنیا انہیں چیتے جیسی تیزی اور پھرتی کے حوالے سے آج بھی یاد کرتی ہے۔ ان کی للکار دشمن پر ہیبت بٹھانے کیلئے شیر کی گرج جیسی ہوتی تھی۔ انہوں نے باکسنگ کے کھیل کو نیا جنون دیا اور پھر حق کے لئے آواز بلند کی تو امریکی حکومت نے ویت نام کی جنگ میں جانے سے انکار کر دیا۔ میرے والد جنہوں نے تین مرتبہ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن کا اعزاز پایا۔۔۔آج اس عظیم باپ کا بیٹا لاوارثوں کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ وقت بھی کتنا ظالم ہے۔ محمد علی کی باکسنگ میں بادشاہت تھی مگر پارکنسن کی بیماری کی وجہ سے بولنے چلنے سے بھی محروم ہیں۔ وہ ایک محل نما بنگلے میں رہتے ہیں لیکن بہت ہی نجی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بہت ہی کم مواقع پر وہ باہر کی دنیا میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ صحت کے حوالے سے اکثر مختلف خبریں گردش میں رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں تو خراب حالت کی اطلاعات تھیں مگر پھر اس کی تردید آ گئی اور کہا گیا کہ وہ صحت مند اور تندرست ہیں لیکن ان کی بیماری اور بیٹے سے دوری ان کی زندگی میں جاری بحران کی عکاسی تو کرتی ہے۔

محمد علی کی جائیداد کے ساتھ کروڑوں ڈالرکی رائلٹی پر ان کی چوتھی بیوی قابض ہیں۔ محمد علی کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ لوئی نہ ہوتی تو آج محمد علی خود بھی کوڑی کوڑی کو محتاج ہوتے۔ بہرحال اگر علی جونیئر اپنے مالی بحران کے باوجود دولت کا طلبگار نہیں ہے تو پھر اسے اپنے والد سے دور کیوں رکھا جا رہا ہے۔ کیا وہ یہ خوف ہے کہ کہیں وہ اپنے حق کی آواز بلند نہ کردے۔ چہ میگوئیاں ہیں کہ لوئی نے ساری جائیداد اپنے نام ٹرانسفر کروالی ہے اور کسی بھی ناگہانی صورت میں علی جونیئر اپنے والد کی دولت و جائیداد سے محروم ہی رہے گا۔ 41 سالہ علی جونیئر بے روزگار ہے۔ اس کی بیوی شاکرہ اور دو بیٹیاں عامرہ اور سکینہ ہیں۔ غربت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے والد کے گھر جانے کیلئے کرایہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر فون پر ہی کوشش کرتا رہتا ہے کہ والد سے بات ہو جائے۔ اور ان کے نہ سمجھ آنے والے الفاظ سن کر دل کو تسلی دے لے۔ علی جونیئر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ جب اس کے ڈیڈی نے لوئی سے شادی کی‘ تب سے یہ دوری کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ ورنہ ماضی میں جب بھی دل اداس ہوتا تو میں اپنے والد سے ملنے چلا جاتا تھا اور وہ مجھے اپنی آغوش میں لیکرپیار کیا کرتے تھے۔ لیکن لوئی نے میرے ڈیڈی کی زندگی میں آ کر میری ملاقات کے سارے دروازے بند کردیئے اور پابندیوں کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔ مختلف بہانوں سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ کبھی کہا جاتا ہے آرام کر رہے ہیں‘ خلل مت ڈالو‘ کبھی مالش کروا رہے ہیں‘ تھوڑی دیر بعد فون کرنا اور پھر بعدازاں فون اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ اس دوری کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اگر میں اپنے والد سے ملتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ آپ کی اولاد‘پوتیاں اوربہو کس حال میں رہ رہے ہیں تو یقیناًان کے دل میں محبت کی لہر ہلچل مچائے گی مگر یہ لوئی کی خام خیالی ہے اور وہم ہے میں اپنے والد سے دولت کیلئے نہیں ملنا چاہتا اور نہ ہی مجھے اس کی طلب ہے۔ میں ان کی محبت کیلئے تڑپتا ہوں۔ میرے لئے سب سے بڑی بات ہے کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن محمد علی نے باکسنگ کے رنگ میں جو کارنامے سرانجام دیئے۔ دنیا آج بھی ان کی خداداد صلاحیتوں کی معترف ہے اور سلام کرتی ہے۔

1

ایک تو انہوں نے عالم شباب اور شہرت کی بلندیوں پر اسلام قبول کیا اور پھر حق کا پرچم بھی بلندکیا لیکن اپنے گھر کے اس بحران پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ کیا وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی اس دیوانگی سے بے خبر ہیں۔ کیا ان کی یادداشت بہت حد تک کمزور ہو چکی ہیں ورنہ وہ تو اپنی اولاد سے بھی پیار کرنے والا والد ہے۔ اس ضمن میں یہ حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ ان کی بیٹی لیلیٰ علی نے باکسنگ رنگ میں اپنے باپ کی جانشینی کو ثابت کیا اور خواتین کی پروفیشنل باکسنگ میں شہرت کمائی اور دنیا کو دکھایا کہ اس کی رگوں میں محمد علی کا خون دوڑ رہا ہے۔ محمد علی خراب صحت کے باوجود اپنی بیٹی کے مقابلے دیکھنے کیلئے آیا کرتے تھے لیکن اب اکلوتے بیٹے کی زندگی اور دوری اس عظیم شخصیت کی ذاتی زندگی کی الجھنیں عیاں کر رہی ہے۔ بقول علی جونیئر ‘لوئی نے اپنے شوہر کو ایک ایسے شکنجے میں کس رکھا ہے کہ ان کی اولاد سے بھی دور رکھ کر ساری دولت پر سانپ بن کر بیٹھی ہیں۔ چاہے وہ یہ جائیداد لے لیں لیکن والد سے دور نہ رکھیں۔ اس حقیقت پر پردہ کب اٹھے گا کہ علی جونیئر کا موقف درست ہے یا لوئی اس ضمن میں جو اقدامات اٹھا چکی ہیں وہ درست ہیں۔لیکن انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو اس ضمن میں سامنے آنا چاہئے اور صحیح یا غلط کی جنگ کو روک کر انسانی رشتوں کو دوری سے بچانے کے لئے آواز اٹھانی چاہئے اور اس لاوارث کو اس کے وارث تک پہنچایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…