جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

بڑھئی سے صدر بننے تک کا سفر! باہمت شخص اور انڈونیشیا کے صدر ’’جوکوویدودو‘‘کی جہدمسلسل

datetime 26  مئی‬‮  2016 |

جو کوویدودوکی بے مثال داستان ہمت نوجوان نسل کیلئے بیش قیمت خزانہ ہے‘ لکڑی کے کارخانے سے مسند صدارت تک کا سفر کیسے طے کیا جا سکتا ہے یہ سبق آپ کو جوکوویدودو کی داستان حیات سے ملے گا۔ جو کو ویدودو 21 جون 1961ء کوانڈونیشی شہر سوراکارتامیں پیدا ہوئے‘ والد نوتو مہردیجو معمولی ترکھان تھے‘ انہیں فرنیچر بنا کر با مشکل اتنی آمدنی ہوتی کہ روز مرہ اخراجات پورے ہو سکیں۔ خاندان کرائے کے گھر میں مقیم تھا۔جو کو کی پیدائش کے چند سال بعد نوتو مقروض ہو گیا حتیٰ کہ کرایہ ادا کرنے کی رقم نہ رہی۔ جوکو کی والدہ سدجیامتی نے شوہر کو وہ قیمتی برتن دیئے جو انہیں اپنے باپ سے پہلے بیٹے کی پیدائش پر تحفتاً ملے تھے‘


Gubernur_DKI_Jokowi

مدعا یہ تھا کہ شوہر انہیں بیچ کر کچھ رقم حاصل کر لیں۔ یہ ایک خاتون خانہ کی طرف سے بڑی قربانی تھی۔نوتو مہر دیجو برتن لیے سائیکل میں انہیں بیچنے نکلے۔ افسوس کہ راستے میں برتن گرے اور چکنا چور ہو گئے۔ نوتو کے والد کی ایک گھڑی بیٹے کے پاس محفوظ تھی۔ وہ باپ بیٹے کی محبت کی انمول نشانی تھی۔ اب نوتو نے دل پر پتھر رکھ کر وہ پیاری گھڑی گروی رکھ دی لیکن گھڑی کے بدلے جو رقم ملی وہ ناکافی تھی چنانچہ کرایہ ادا نہ ہونے پر انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ وہ پھر وسط شہر میں بہتے دریائے سولو کے کنارے بنی کچی آبادی میں رہنے لگے۔ انہوں نے درخت کاٹ کر وہاں ایک جھونپڑی بنائی اور یوں سرچھپانے کا ٹھکانا میسر آ گیا۔اس بے سروسامانی کے عالم میں بھی نوتو کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ ان کے ایک رشتے د ار فرنیچر بنانے کا چھوٹا سا کارخانہ چلاتے تھے۔
نوتو کو وہاں ملازمت مل گئی۔وہ محنتی انسان تھے۔ انہوں نے دان رات محنت کر کے اتنی رقم جمع کر لی کہ اپنی دکان کھول سکیں۔ وہیں بارہ سالہ جو کو بھی باپ سے ترکھان کا کام سیکھنے لگا۔ وہ صبح سکول جاتا اورسہ پہر کو باپ کا ہاتھ بٹاتا۔ اللہ تعالیٰ نے کام میں برکت دی اور وہ چل پڑا۔ جلد ہی جمع پونجی کے ذریعے نوتو نے ذاتی گھر تعمیر کر لیا۔1980ء میں جو کو نے میٹرک پاس کیا‘اب کالج میں پڑھائی کا مرحلہ آیا‘ اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ سرمایہ بھی درکار تھا‘ ادھر دکان سے اتنی ہی آمدن ہوتی کہ گھر کے اخراجات پورے ہو جائیں۔ تب تک جو کو کی دو بہنیں بھی پیدا ہو چکی تھیں۔ سو خرچ بڑھ گیا۔اس کڑے وقت میں خاندان والے پھر باپ بیٹے کی مدد کو پہنچے۔ مشترکہ خاندانی نظام کا یہ بہت بڑا وصف ہے کہ اس میں سب لوگ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں چنانچہ نوتو کے بھائیوں نے بھتیجے کی فیس کا بندوبست کیا۔ یوں جوکو جکارتہ چلے آئے اور وہاں گاجا مادا یونیورسٹی کے شعبہ جنگلات میں تعلیم پانے لگے۔1985ء میں جو کو نے بی ایس سی کر لیا۔ تب تک وہ اپنے ایک دوست کی بہن ارینا سے محبت کرنے لگے تھے۔
 

Guvernør_Joko_Widodo_og_statsråd_Trond_Giske

انہوں نے اگلے سال شادی کر لی۔ان کے ہاں تین بچے تولد ہوئے‘ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ جو کو نے بعدازاں کچھ عرصہ سرکاری ملازمت کی مگر وہ اہل خانہ سے دور نہ رہ سکے۔ چنانچہ پر کشش تنخواہ کو لات مار کر واپس سورا کارتا چلے آئے۔ وہاں پہلے اپنے رشتے دار کی فرنیچر فیکٹری میں کام کیا۔ پھر 1988ء میں فرنیچر بنانے و بیچنے کا اپنا کاروبار کرنے لگے۔ افسوس کہ ان کی سادگی و معصومیت سے ایک شیطان صفت انسان نے فائدہ اٹھایا اور جوکو کی ساری رقم لے اڑا تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بیوی کا زیور بیچ کر نئے سرے سے کاروبار شروع کیا۔ محنت اور دیانت داری کے باعث اللہ تعالیٰ نے پھل بھی میٹھا دیا اور کاروبار مستحکم ہوگیا۔بچپن سے اب تک جو کو نے غربت و تکلیف کے مختلف مناظر دیکھے تھے۔ کبھی انہیں ماں باپ کے ساتھ دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں‘ کبھی دن بھر پیٹ بھرنے کو ایک ہی کھانا ملتا‘ کبھی ایک ہی لباس زیب تن کیے کئی ہفتے گزر جاتے۔ جب ان کی مالی حیثیت مستحکم ہوئی تو جو کو سوچنے لگے کس طرح غریب ہم وطنوں کی حالت بدلی جائے؟ تب انہیں احساس ہوا کہ وہ حکومت میں پہنچ کر ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جن سے غریبوں کی حالت بدل سکتی ہے۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھے کہ دوستوں نے بھی انھیں سیاست میں جانے کا مشورہ دیا۔ان کی خواہش تھی کہ ایماندار‘اہل اور مخلص نوجوان انڈونیشی سیاست میں حصہ لیں۔جوکو نے ان کی آواز پہ لبیک کہا اور 2004ء سے سوراکارتا کی بلدیاتی سیاست میں حصہ لینے لگے۔ ان کی سیاست روایتی سیاست دانوں سے بالکل مختلف تھی جو صرف الیکشن کے موقع پر ووٹ مانگنے غریبوں کی بستیوں میں چلے آتے ہیں۔ جو کو شہر کے چپّے چپّے پر گئے اور ہر قسم کے لوگوں سے ملے۔ یوں انہیں مزید واقفیت ملی کہ عام آدمی کس قسم کی مشکلات میں مبتلا ہے۔جوکو نے شہریوں کو یقین دلایا کہ اگر وہ شہر کے میئربن گئے تو ان کے مصائب دور یا کم کرنے کی ہر ممکن سعی کریں گے۔ اس نوجوان رہنما کا خلوص و سچائی باتوں اور آنکھوں سے ظاہر تھا‘ اس لیے جوکو دیکھتے ہی دیکھتے سورا کارتا میں جانے پہچانے عوامی رہنما بن گئے۔آخر 2005ء میں وہ شہر کے میئر منتخب ہو ئے‘ انہوں نے حکمران جماعت کے نمائندے کو شکست دے کر سبھی کو حیران کر دیا مگر ابھی جوکو کے کارناموں نے پورے ملک کو چونکا دینا تھا۔ وہ سات برس شہر کے میئر رہے اور اس دوران سوراکارتا کی کایا پلٹ ڈالی۔2005ء میں سورا کارتا مجرم پیشہ گروہوں کا گڑھ بنا ہوا تھا‘
قانون کانام و نشان نہیں تھا کیونکہ انتظامیہ کرپشن کی دلدل میں پھنسی تھی۔ جوکو نے برسراقتدار آتے ہی بلدیہ کے کرپٹ ملازمین کو گھر بھجوایا اور ایمان دار ملازم بھرتی کیے۔پھر شہر میں اعلان کرا دیا کہ بلدیہ کا جو ملازم رشوت مانگے اس کی خبر انہیں دی جائے چنانچہ چند ماہ میں بلدیہ کے ملازم133 افسروں سے لے کر خاکروبوں اور مالیوں تک اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینے لگے۔اب جو کو دیگر عوامی مسائل کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے شہر میں نئی بسیں چلائیں اور ٹرانسپورٹ نظام بہتر بنایا۔ غریبوں کے لیے کم قیمت مکانات بنوائے۔ مخصوص مقامات میں مارکیٹیں بنوائیں جہاں غریب چھابڑی والوں کو مفت دکانیں دی گئیں۔ جن پارکوں میں مجرموں کا بسیرا تھا‘ وہاں نئے درخت و پودے لگوائے اور انہیں بہتر ین تفریحی مقام بنا دیا۔ شہر میں جتنے بھی ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے‘ ان کا ٹھیکہ جوکو کے کسی رشتے دار حتیٰ کہ دوست کو بھی نہیں ملا۔جوکو نے یوں شہر میں وی آئی پی کلچر‘ کرپشن اور اقربا پروری کے بخیے ادھیڑ ڈالے اور میرٹ و قانون کی حکمرانی کو پروان چڑھایا۔ وہ روزانہ کسی محلے یا کچی آبادی جاتے اور لوگوں سے گفت و شنید کرتے‘ ان کے مسائل سنتے۔ یوں انہوں نے براہ راست عوام سے تعلق رکھنے کا سلسلہ شروع کیا جوآج بھی جاری ہے۔جب جوکو عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر انہوں نے مجرم پیشہ گروہوں کے خاتمے کا سوچا۔ اب شہری پولیس اوور ہالنگ سے گزری اور سبھی کرپٹ افسر و سپاہی برخاست کر دیئے گئے۔ نئے پولیس افسروں نے پوری طاقت سے مجرموں کو کچلا اور جو کو کی حمایت سے کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لائے چنانچہ چند ہی ماہ میں سوراکارتا میں امن و امان قائم ہو گیا اور قانون کی حکمرانی طاقتور ہوئی۔ ماحول دوست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جو کو نے درخت کاٹنے پر پابندی لگا دی۔

JokowiPresidentialOath

سرکاری دفاتر میں متبادل ذرائع توانائی سے حاصل کردہ بجلی کو رواج دیا۔ شہر یوں کے لیے ہیلتھ انشورنس شروع کی۔ غرض انہوں نے وہ تمام اقدامات کیے جو ایک عادل اور عوام دوست حاکم کو کرنے چاہئیں۔بلدیہ میں کرپشن ختم ہوئی تو لوگوں کو نیا کاروبار کرنے کے فوراً لائسنس ملنے لگے۔ یوں شہر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا اور شہری خوشحال ہوگئے۔جوکو نے شہریوں کی ذہنی نشوونما کے لیے بھی کئی کام کیے۔ مثلاً فن و ثقافت اور علم و ادب کے میلے منعقد کروائے۔ شہر میں آرٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ انہی سرگرمیوں کے ذریعے انسان مادہ پرستی سے دور ہوتا ہے اور اس میں خیر و بھلائی کی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں۔
سوراکارتا میں بچے بچے کو معلوم ہے کہ اس سات سالہ دور میں جوکو کی ماہانہ تنخواہ کیا رہی کیونکہ وہ ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیل عوام کے سامنے لاتے۔ انہوں نے سارے عرصے میں صرف اپنی تنخواہ پر گزارہ کیا اور سادگی کو شعار بنایا۔جوکو کی طاقت کا ایک راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے کوئی بے جا تمنا نہیں کی اور ضمیر کو پاک صاف رکھا۔ وہ حلال کی معمولی سی کمائی کو حرام کی اربوں روپے والی آمدن پر ترجیح دیتے ہیں۔ دامن میں کوئی گندا چھینٹا نہ ہونے کے احساس ہی نے جوکو کو ایسی غیر معمولی قوت دی کہ وہ روزانہ سترہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے اور تھکن قریب نہ آتی۔عوام میں بے پناہ مقبولیت اور حقیقی طرز حکمرانی اپنانے کے باعث 2012ء تک جو کو پورے ملک میں مشہور ہو گئے چنانچہ صوبہ جکارتہ کی گورنرکا الیکشن ہوا تو جو کو باآسانی اسے جیتنے میں کامیاب رہے۔گورنر بن کر وہ زیادہ بااختیار ہوئے تو انہوں نے صوبے بھر میں مزید عوامی منصوبے شروع کیے۔ ان کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ غریبوں کو غربت کے پنجوں سے رہائی ملے اور انہیں سہولیات دی جائیں۔ مثلاً غریب طلباء وطالبات کے لیے ’’سمارٹ کارڈ‘‘ جاری کیا۔ اس کارڈ سے بذریعہ اے ٹی ایم رقم نکلوائی جاتی ہے تاکہ فیس یا دیگر تعلیمی اخراجات پورے ہو سکیں۔ صوبے بھر میں غریبوں کو سستی طبی سہولیات دینے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ انہی غریب دوست منصوبوں کی وجہ سے صوبہ جکارتہ کا بجٹ دو برس میں 41 کھرب روپیہ سے 72کھرب روپیہ تک پہنچ گیا۔اہم بات یہ کہ گورنر جوکو نے بڑھتے اخراجات پورے کرنے کی خاطر بینکوں سے قرضے لیے نہ غیر ملکی امداد بلکہ ٹیکس نظام کو بہتر بنایا۔
کرپشن سے پاک اقدامات اور قانون پر عمل درآمد سے صوبے کا امیر طبقہ خودبخودٹیکس دینے لگا۔ یوں صوبائی حکومت کی آمدن بڑھ گئی۔ جوکو نے دیگر حکمرانوں کے برعکس عوام پر ٹیکس بھی نہیں لگائے جو رقم جمع کرنے کا روایتی سرکاری طریقہ ہے۔ گورنر بن کر بھی جوکو نے سادگی کا زیور پہنے رکھا۔وہ آئے دن کچی بستیوں اور محلوں میں جا کر غریبوں سے ملتے اوران کے دکھڑے سنتے۔تب ان کے ساتھ خوفناک گارڈوں کا ٹولہ ہوتا نہ مصنوعی اکڑفوں اور پھوں پھاں کا ماحول!سادہ لباس میں ملبوس جوکو حقیقتاً عوامی نمائندے نظر آتے۔
جوکو نے عوام کی بھلائی کا سوچاتو لوگوں نے بھی انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا اور بہت عزت دی حتیٰ کہ جولائی 2014ء میں صدارتی انتخابات ہوئے تو انڈونیشی عوام نے انہیں صدر بنوا دیا۔وہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے انڈونیشی صدر ہیں۔ ان کا طبقہ امراء ‘ بااثر سیاسی طبقے اور فوج سے تعلق نہیں۔ ان کے انتخاب سے انڈونیشی عوام نے دکھا دیاکہ عام آدمی ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو رہنما عوام دوست اقدامات کرے ‘ وہی حکمران بننے کا بھی اہل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…