جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کھرب پتی امریکی صدر ٹرمپ کے گھر ہالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) گو کہ ڈونلڈ ٹرمپ آج کل امریکا کے صدر ہیں لیکن اس سے پہلے بھی وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ ٹرمپ کا شمار امریکا کے نہایت دولت مند اور بااثر کاروباری افراد میں ہوا کرتا تھا۔سنہ 1990 کی دہائی میں ہالی ووڈ میں بننے والی فلموں میں اگر کوئی عالیشان اور شاندار عمارت دکھانی مقصود ہوتی تھی تو اکثر ہدایت کار ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا کرتے تھے کہ کیا وہ ٹرمپ ٹاور یا اپنی کسی اور

عمارت میں انہیں شوٹنگ کی اجازت دیں گے۔اور ٹرمپ انہیں ایک شرط پر اس کی اجازت دیا کرتے تھے جو یہ تھی کہ فلم کے کسی منظر میں چند سیکنڈز کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی جلوہ گر ہوں گے۔ فلمی تکنیکی زبان میں اس منظر کو کیمیو کہا جاتا ہے۔اس بات کا انکشاف ہالی ووڈ اداکار میٹ ڈیمن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا۔انہوں نے بتایا کہ سنہ 1992 میں ریلیز کی گئی ایک فلم سینٹ آف دا ویمن کے کچھ مناظر ٹرمپ کی ملکیتی عمارت میں عکس بند کرنے کی اجازت لی گئی اور ٹرمپ نے فلم کے ہدایتکار مارٹن برسٹ سے کہا کہ وہ ٹرمپ کے لیے بھی کوئی سین لکھیں جس سے وہ فلم میں آسکیں۔سینٹ آف دا ویمن ایک نابینا ریٹائرڈ آرمی افسر اور اس کی نوجوان نگہبان کے تعلق پر مبنی فلم ہے۔میٹ ڈیمن کے مطابق ٹرمپ کی مصروفیت کے پیش نظر اس منظر کی عکس بندی کے لیے پورا ایک گھنٹہ ضائع ہوا۔اس منظر میں ٹرمپ کو اس طرح پیش کیا جانا تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہوتے، فلم کے مرکزی کردار ال پچینو ان سے کہتے، ’ہیلو مسٹر ٹرمپ‘، اس کے بعد ٹرمپ کو وہاں سے چلے جانا تھا۔تاہم بعد ازاں اس منظر کو ٹرمپ جیسے بدطنیت اور بااثر تاجر کی خفگی کے خوف کے باوجود کاٹ دیا گیا اور یوں یہ منظر سینٹ آف دا ویمن میں نہیں دکھایا گیا۔البتہ ہوم الون 2 میں ایسا نہیں ہوا۔سنہ 1992 میں ہی ریلیز ہونے والی فلم ہوم الون 2 میں فلم کا مرکزی کردار جو ایک بچہ ہے ایک

شاندار عمارت میں جا پہنچتا ہے جو درحقیقت ٹرمپ کا گھر ہے۔ وہاں ایک منظر میں بچہ ٹرمپ سے راستہ پوچھتا دکھائی دیتا ہے۔میٹ ڈیمن کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یہ منظر فلم میں کیوں رکھا گیا، ’شاید فلم کے منتظمین دولت مند ٹرمپ کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے تھے‘۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…