منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف اگر وزیر اعظم رہتے تو پاکستان۔۔ سینئر صحافی حامد میر کا حیران کن دعویٰ !!

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے خواجہ آصف کو وزیر خارجہ بنانا پڑا ، اگر نواز شریف وزیر اعظم رہتے تو پھر شاید پاکستان وزیر خارجہ سے محروم ہی رہتا۔حامد میر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف متحرک آدمی ہیں اس لیے وہ بطور وزیر خارجہ بھی خاصے متحرک نظر آ رہے ہیں،

ان کے زیادہ متحرک ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان کو عالمی دباؤ کا سامنا ہے ، اب تک کی ان کی کارکردگی دیکھی جائے تو لگتا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں وزیر خارجہ بنا کر درست فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن ن لیگ نے کسی غلطی کے احساس کی وجہ سے خواجہ آصف کو وزیر خارجہ نہیں بنایا بلکہ نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے انہیں وزیر خارجہ بنانا پڑا ہے۔ جب تک نواز شریف وزیر اعظم رہے انہوں نے وزارت خارجہ اپنے پاس ہی رکھی لیکن اب چونکہ وہ وزیر اعظم نہیں رہے تو اس لیے کسی نہ کسی کو تو وزیر خارجہ بنانا ہی پڑنا تھا تو نگاہِ انتخاب خواجہ آصف پر ٹھہری۔دوسری جانب وزیرِ خارجہ خواجہ آصف منگل کو ترکی پہنچے جہاں اُنھوں نے اپنے ترک ہم منصب میولد چاوو سوگلو سے وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی امور بشمول افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور کے علاوہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مبینہ مظالم پر بھی بات چیت کی۔پاکستانی وزیر خارجہ نے ترکی وزیراعظم بن علی یلدرم سے بھی ملاقات کی۔خواجہ آصف نے پیر کو ایران کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں اُنھوں نے اپنے ہم منصب جواد ظریف سے

مذاکرات کے علاوہ صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی تھی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد جہاں پاکستان میں اندرون ملک اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے وہیں پاکستانی حکومت کی ہدایت وزیر خارجہ دوست ممالک کے دورے کر کے اُنھیں بھی پاکستان کے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی افغانستان اور

خطے سے متعلق پالیسی میں پاکستان میں مبینہ طور پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بارے میں مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…