ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

میں اس علاقے سے آیا ہوں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا میں نے دیکھا ہے اب وہاں پر۔۔۔معروف بین الاقوامی صحافی روہنگیاکے آبائی علاقوں میں پہنچنے والا پہلا غیر ملکی صحافی بن گیا،وہاں کیا منظر ہے؟جان کر شاید مسلمان جاگ جائیں

datetime 9  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صحافیوں کو میانمار کی ریاست راکھین جانے کی اجازت نہیں ہے جہاں میانمار کی فوج اور بودھ شدت پسند روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ دنوں حکومت کی طرف سے چندغیرملکی صحافیوں کو اپنی نگرانی میں بعض مخصوص دیہات کا دورہ کروایا گیا۔ ان صحافیوں میں بنگلہ دیش کی منیزہ نقوی، تھائی لینڈ کے گرانٹ پیک اور بھارت کے اشوک شرما و دیگر شامل تھے۔ یہ پہلے غیرملکی صحافی تھے جو راکھین کے متاثرہ علاقوں میں گئے۔

واپس آ کر گرانٹ پیک نے بتایا کہ ”ہم اس علاقے سے واپس آ رہے ہیں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان دیہات میں ہم نے دیکھا کہ وہاں کوئی باشندہ نہیں تھا۔ دیہات بالکل خالی پڑے تھے۔ ان میں موجود گھروں کو آگ لگائی گئی تھی جس سے ابھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ دیہات میں مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید کے اوراق پھاڑ کر ادھر ادھر پھینک دیئے گئے تھے۔“گرانٹ پیک کا مزید کہنا تھا کہ ”برمی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ روہنگیا مسلمان جان بوجھ کر اپنے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں لیکن ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں کہ ان دیہات سے تمام مسلمان ہجرت کر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے گھروں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ کس نے لگائی؟ اور کوئی بھی مسلمان اپنی مقدس کتاب کو پھاڑ کر نہیں پھینک سکتا۔ یہ تمام شواہد اس حکومتی دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔“واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 1لاکھ 64ہزار روہنگیا مسلمان ہجرت کرکے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں اور ہزاروں قتل کیے جا چکے ہیں، لیکن میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف چند سو شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ برمی حکومت کی طرف سے بھی اپنی فوج کے دعوے کی حمایت کی جا رہی ہے اور الٹا مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر اس پرتشدد صورتحال کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…