منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

ڈریمر کی منسوخی ٗتارکینِ وطن ششدر، امریکہ بھر میں مظاہرے شروع ،کتنے لاکھ افراد متاثر ہونگے؟تشویشناک انکشافات

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم نوجوان تارکین وطن کو تحفظ فراہم کرنے والے پروگرام ’ڈریمر‘ کی منسوخی کے بعد امریکا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔امریکی میڈیا کے مطابق اس وقت امریکا میں 8 لاکھ سے زائد نوجوان تارکینِ وطن موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے۔امریکا میں موجود یہ نوجوان امریکا ہی میں پروان چڑھے ہیں ٗانہوں نے یہیں پر تعلیم حاصل کی اور اب ملازمت کر رہے ہیں ٗا

ن میں سے کچھ افراد نے اپنے کاروبار کا آغاز بھی کر رکھا ہے جبکہ کچھ افراد خاندانوں کی صورت میں یہاں آباد ہیں حتی کہ ان کے ذہنوں میں ان ممالک کی یاد بھی موجود نہیں ہوگی جہاں وہ پیدا ہوئے۔سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیفرڈ ایکشن چائلڈ ہڈ ارائیول (ڈاکا) پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود نوجوان تارکینِ وطن کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو بعد ازاں ’ڈریمر‘ کے نام سے مشہور ہوا۔سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اس پروگرام کو کانگریس کی اجازت کے بغیر نافذ کر دیا تھا تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اس پروگرام کو منسوخ کرکے نوجوان تارکین وطن کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ڈریمر پروگرام کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف اس پروگرام کا دفاع نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ڈاکا کے دیگر مخالفین کا خیال ہے کہ اب کانگریس کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک میں مقیم نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کے معاملات کس طرح حل کرنے ہیں۔اْدھر مظاہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ڈریمر پروگرام کو ختم کرکے امریکا میں موجود تارکین وطن کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ اب کانگریس کے پاس ڈاکا کی قانون سازی (جس میں اوباما انتظامیہ ناکام رہی) کیلئے 6 ماہ کا عرصہ ہے ٗاگر پھر بھی اس مسئلے پر کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ خود اس معاملے پر نظر ثانی کریں گے۔

بیشتر امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا کہنا ہے کہ امریکا میں موجود یہ تارکینِ وطن اب امریکا میں ہی پرورش پا چکے ہیں اور ایسی ہی زندگی بسر کر رہے ہیں جس پر امریکا کو فخر ہوتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…