اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان پر کس کی حکومت ؟برکس اعلامیہ پر پاکستان کے جواب نےٹرمپ اور مودی کے غبارے سے ہوا نکال دی

datetime 5  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے برکس اجلاس کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیںنہیں ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں‘ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان نے اہم کامیابیاں حاصل کیں ‘ امریکہ افغانستان میں ناکامی سے دوچار ہے‘ چالیس فیصدافغانستان پر آج بھی طالبان کا کنٹرول ہے

جبکہ ساٹھ فیصد علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں امریکہ کے گیارہ ہزار فوجیوں سمیت نیٹو افواج بھی طالبان کے خلاف برسرپیکار ہیں،امریکہ کو اس ضمن میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ پاکستان سے اس معاملے پر مدد لینی چاہئے،برما معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں جلد پالیسی کا اعلان کریں گے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ برکس اجلاس میں بعض تنظیموں کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ غلط معلومات کی بناء پر اعلامیے کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔ پوری دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کو سراہنا چاہئے۔ افغانستان میں دہشت گردوںکی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ امریکہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ سولہ سال گزرنے کے باوجود آج بھی چالیس فیصد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ امریکہ کو اس ضمن میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان

کی کوششوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ پاکستان سے اس معاملے پر مدد لینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جذباتیت سے نہیں بلکہ ہوش و ہواس سے معاملات کے حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…