ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نجی ٹی وی چینلزمیں نشر کئے جانیوالے اخلاق باختہ موادپر تنقید،پیمرا نے شیریں رحمان کو ’’آئینہ ‘‘دکھادیا

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹر شیری رحمان اور سینئر جرنلسٹ زاہد حسین نے بدھ کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیمرا کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز ’اے آر وائی کمیونی کیشنز‘، ’ہم ٹی وی‘اور ’جیو انٹرٹینمنٹ ‘ کو انتباہ جاری کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا اب پیمرا اس بات کا تعین کرے گا کہ ڈراموں میں کس طرح کا لباس پہنا جانا چاہئے اور یہ کہ کون سا مواد شائستہ ہے اور کون سا ناشائستہ۔

معزز سینیٹر کے مطابق اس طرح کے طرز عمل سے پیمرا اخلاقیات کا پرچار کرنے والے پولیس مین کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پیمرا نے اس تنقید کے جواب میں واضح کیا ہے مذکورہ ٹی وی چینلز کو پیمرا قوانین اور الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کی گئی ہے نا کہ کپڑوں کے انتخاب پراور نہ ہی ریگولیٹر کے پاس اخلاقیات کا پولیس مین بننے کا کوئی اختیار ہے۔ اے آر وائی کمیونی کیشنز کو ضابطہ اخلاق کی شق 3(1)(e) کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کی گئی جس کے مطابق ’لائسنس دار اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ ہو جو نازیبا ، اخلاق باختہ یا فحش ہو‘۔ اے آر وائی کمیونیکیشنز پرچلنے والے وڈیو کلپ دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نشر کیا جانے والا مواد اخلاق باختہ تھا یا نہیں۔(وڈیو کلپ منسلک ہے)۔ ’ہم ٹی وی‘ کو پیمرا آرڈیننس 2002کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015کی شقوں 3(1)(e) ، 12، 13 اور 17کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کی گئی ۔ ضابطہ اخلاق کی مذکورہ شقوں کے مطابق ’ ’لائسنس دار اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ ہو جو نازیبا ، اخلاق باختہ یا فحش ہو‘یا ’بچوں پر منفی اثرات مرتب کرنے والا یا ان کی پریشانی کا باعث بننے والا ہو یا ’ان میں فحش اور نا زیبا الفاظ کا استعمال ہو ‘

جیو انٹرٹینمنٹ کو بھی مندرجہ بالا شقوں کے علاوہ 3(1)(m) کی خلاف ورزی پر انتباہ جاری کیا گیا جس کے مطابق ’لائسنس دار اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ ہو جو سگریٹ نوشی ، شراب نوشی، منشیات کے استعمال اور منشیات کی عادت کو پر کشش بنائے یا انہیں خواہش کے طور پر پیش کرے۔

پیمرا نے ریکارڈ کی درستگی کے لئے ان وڈیو کلپس کو پیمرا کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس (رپورٹ پیمرا)ان وڈیو کلپس کو منسلک کر دیا ہے تاکہ سینیٹر شیری رحمان اور دیگر جو اتھارٹی کو Morality Police کہتے ہیں خود دیکھ سکیں کہ کیا ایسی کلپس اور مکالمہ ٹی وی سکرین پر دکھایا جانا چاہئے جسے خاندان کے تمام افراد اکٹھے بیٹھ کر دیکھتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…