ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

طیارہ حادثہ کو29سال مکمل ،جنرل ضیاء الحق کوآخری دنوں میں کیا خدشات لاحق تھے،امریکی سفیر کو کیوں ساتھ رکھاگیا؟نئے بننے والے آرمی چیف بہاولپور میں موجود ہونے کے باوجود کیسے بچ گئے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق آرمی چیف ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب سی ون 30 کے حادثے میں جا ں بحق ہو گئے تھے۔ حادثے میں پاک فوج کے 10 اعلیٰ افسران، امریکی سفیر آرنلڈ ایل رافیل سمیت طیارے میں سوار تمام 30 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جنرل ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو ئے تو ان کے ساتھ اس وقت کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان ٗچیف آف جنرل اسٹاف جنرل افضال ٗ 3 میجر جنرلز، 5 بریگیڈیئرز اور دیگر آرمی افسران بھی تھے۔

اسلام آباد میں امریکی سفیر آرنلڈ ایل رافیل اور چیف ملٹری اتاشی بریگیڈئیر جنرل ہربرٹ ایم واسم بھی اسی طیارے کے حادثے میں چل بسے۔اس حادثے کے 8 گھنٹے کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان نے ملک کا نظم ونسق سنبھالااور ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے نئے صدر نے تینوں سروسز چیفس پر مشتمل ایک خصوصی 13 رکنی کونسل بھی تشکیل دی۔جنرل اسلم بیگ جو ضیاء الحق کے بعد آرمی چیف بنے۔وہ بہاولپور میں ہونے والی ٹینک نمائش میں شریک تھے تاہم وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد آئے۔واضح رہے کہ جنرل ضیا ء الحق بھی اسی نمائش میں شریک تھے اور ان کے طیارے کو اڑان بھرنے کے 10 منٹ بعد ہی حادثہ پیش آ گیا تھالیکن 30 سال گزرنے کے باجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا یا کوئی تخریب کاری تھی؟۔ ضیاء الحق کے بارے میں یہ بھی کہاجاتاہے کہ وہ خطرے سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے تھے اور انہوں نے اپنی نقل و حرکت بڑی حد تک محدود کردی تھی جبکہ امریکی سفیر کے بارے میں بھی یہ دعویٰ کیاجاتاہے کہ ضیاء الحق ان کو فضائی سفر میں اپنے ہمراہ اس وجہ سے بھی رکھتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں امریکی ہی انہیں نشانہ نہ بنالیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…