بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

’’جنگ کی نجکاری‘‘افغانستان کے بارے میں حیرت انگیز امریکی منصوبہ منظر عام پر آگیا

datetime 14  اگست‬‮  2017 |

کابل/واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں ایک بڑی نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کی طرف سے افغانستان میں امریکی جنگ کے ایک بڑے حصے کی نجکاری کرنے کی تجویز پر کابل اور واشنگٹن کے بڑے حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

پرنس کا استدلال ہے کہ یہ تجویز اخراجات کے حساب سے موثر ہے اور اس سے جنگ کا پانسہ پلٹا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کے تحت افغان فورسز کو مشاورت فراہم کرنے والے فوجیوں کی جگہ تقریباً پانچ ہزار کنٹرکٹرز کو تعینات کیا جائے گا جنہیں نجی فضائی قوت کی معاونت حاصل ہوگی۔ پرنس کے مطابق یہ کنٹریکٹرز افغان حکام کے زیر کنٹرول ہوں گے۔پرنس کا کہنا تھا کہ یہ سب مرکزی افغان حکومت اور افغان مسلح افواج کے سربراہ کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یہ کوئی مقامی ملیشیا نہیں ہے جو بننے جا رہی ہے۔لیکن کئی اہم افغان حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پرنس کی یہ نجی فوج احتساب سے بالا ہوگی اور ان کے بقول اس اقدام سے بلیک واٹر کے کارندے ویسے ہی مظالم ڈھا سکتے ہیں جو انھوں نے گزشتہ دہائی میں عراق اور افغانستان میں کیے۔افغان حکومت نے تاحال اس تجویز پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن ایک سینیئر افغان دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے قانونی پیچیدگیاں ہیں اور یہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی سکیورٹی معاہدوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔اس وقت افغانستان میں لگ بھگ نو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کی اکثریت جنگ کی بجائے افغان فورسز کی تربیت میں مصروف ہے۔ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کا افغانستان میں لڑاکا مشن 2014ء میں ختم ہو چکا ہے۔

اس کے بعد سے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی افغان فورسز کو طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور کئی علاقے سرکاری کنٹرول سے نکل ہو چکے ہیں۔ کابل کی حکومت اس وقت ملک کے نصف سے تھوڑے زیادہ حصے پر عملداری رکھتی ہے۔پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیداران بشمول وزیردفاع جم میٹس اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی۔

افغانستان میں بھی ایک وسیع حلقہ اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ سختی سے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ افغانستان کی قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے مزید غصے کا باعث بنے گا جس سے طالبان کو اپنے لیے لوگ بھرتی کرنے میں مدد ملے گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…