ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جلدپتہ چل جائیگا کہ آپ نے صحیح کام کیا یا غلط؟ مشاہد اللہ عدلیہ کیخلاف پھر بول پڑے،سنگین دعوے

datetime 9  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے، الیکشن میں پتہ چل جائے گا کہ آپ نے صحیح کام کیا یا غلط ٗجسٹس منیر سے جسٹس ڈوگر تک ہم نے کئی فیصلے دیکھے ہیں جن کو لوگوں نے نہیں مانا ٗ عدالتی فیصلوں سے کسی کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ بدھ کو سینٹ میں پانامہ پیپرز کیس کے فیصلہ کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانامہ کوئی سکینڈل نہیں ہے بلکہ یہ پانامہ پیپرز ہیں جو لیک ہوئے ہیں۔

ان میں کسی امریکی کا نام کیوں نہیں ہے، میاں نواز شریف کا نام بھی پانامہ پیپرز میں نہیں تھا، صرف ان کے دو بچوں کے نام تھے لیکن اس میں جو باقی افراد تھے، ان کے خلاف تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اگر فیصلے درست ہوں تو دنیا ان کو تسلیم کرتی ہے ورنہ پھر وہی ہوتا ہے جو آج ہم اسلام آباد اور راولپنڈی میں لوگوں کے جم غفیر کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو ہم نے ہٹانا ہے سو انہیں ہٹا دیا گیا۔ اب اگر وہ لوگ سڑک پر نکلیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کتنا تاریخی کام کیا ہے۔ عدلیہ اور کچھ ادارے بھی کہتے ہیں کہ ہمارا اپنا نظام ہے، ایک جج کا نام بھی پانامہ پیپرز میں آیا، اس کا تو کسی نے نام نہیں لیا۔ عدالتی فیصلوں سے کسی کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جسٹس منیر سے جسٹس ڈوگر تک ہم نے کئی فیصلے دیکھے ہیں جن کو لوگوں نے نہیں مانا، نواز شریف کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نکالیں گے تو وہ اور زیادہ مضبوط ہو کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کرپشن ہو رہی ہے ان کا نام کوئی نہیں لیتا، اگلے الیکشن میں پتہ چل جائے گا کہ آپ نے غلط کام کیا ہے یا صحیح کام کیا ہے۔ نواز شریف کو عوام نے بھرپور محبت دی ہے، انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ فوری تسلیم کیا اور وزیراعظم ہاؤس چھوڑ دیا۔ ہمارے مخالفین کو احتساب پر یقین نہیں ہے،

انہوں نے اپنے وزراء کے خلاف کیا کارروائی کی ہے، اگر انہیں احتساب پر یقین ہوتا تو ان کی اے ٹی ایم مشینیں کب کی ختم ہو چکی ہوتیں۔ جن لوگوں نے معیشت کا پہیہ روکنے کی کوشش کی ہے انہوں نے بہت ظلم کیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے اپنی اناء کی تسکین کے لئے ملک کا نقصان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…