بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر نے ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشواروں کی ڈائریکٹری جاری کردی

datetime 27  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) ایف بی آر کے اراکین پارلیمنٹ کی 2016ء کی ٹیکس گوشواروں کی ڈائریکٹری جاری کردی ہے ۔ جاری ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 2016 میں 25 لاکھ 24 ہزار 213 روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک لاکھ 59 ہزار 609 روپے ٹیکس ادا کیا۔ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2016 میں 95 لاکھ 31 ہزار 60 روپے ٹیکس دیا ،

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 51 لاکھ 65 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا جن میں سے 50 لاکھ 55 ہزار بطور ایسوسی ایشن پرسنز کے طور پر ٹیکس شامل ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے 8 لاکھ 13 ہزار 869 ،وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے 14 لاکھ 11 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 46 لاکھ 17 ہزارروپے، وزیرداخلہ چوہدری نثار نے 11 لاکھ 92 ہزار 68 روپے، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے 39 لاکھ 83 ہزار 491 روپے ،وزیردفاع خواجہ آصف نے 8 لاکھ 31 ہزار 986 روپے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 1 لاکھ 4 ہزار 853 روپے ،وزیرپیٹرلیم شاہد خاقان عباسی نے 26 لاکھ 59 ہزار 183 روپے ٹیکس ادا کیا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 34ہزار 941 روپے، مولانا فضل الرحمن نے 50ہزار 101 روپے ،شیح رشید نے 5 لاکھ 5 ہزار 966 روپے کا ٹیکس جمع کرایا۔پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے 5 کروڑ 36 لاکھ 77 ہزار 422 روپے، رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے 63 لاکھ 68 ہزار 864 ارب روپے ،مراد سعید نے 34 ہزار 941 روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیراعلی پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز نے 70 لاکھ 38 ہزار 777 روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرائے۔ سینیٹر روزی خان کاکڑ نے سب سے زیادہ 4کروڑ 99لاکھ 23 ہزار 783 روپے ٹیکس دیا،سینیٹرتاج محمدآفریدی 3 کروڑ 52 لاکھ 84 ہزار 413 روپے ،سینیٹر محمد طلحہ محمودنے 3 کروڑ 24 لاکھ 95 ہزار 268روپے ،سینیٹراعتزازاحسن 1 کروڑ 38 لاکھ 54 ہزار 833 روپے کاٹیکس اداکیا،سینیٹرفروغ نسیم نے 2کروڑ 2لاکھ 33ہزار 725روپے ٹیکس جمع کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…