بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

نہال ہاشمی توہین عدالت کیس سپریم کورٹ سے آنیوالی خبر نے ہلچل مچا دی

datetime 24  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کی جانب سے مزید مہلت کی استدعا مسترد، دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت، سماعت 21اگست تک ملتوی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کی جانب سے جواب جمع کرانے کی مزید مہلت کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے اور دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے

۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کر رہے ہیں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکاوٹیں ہی ڈالنا ہیں تو کہیں اختتام نہیں ہو گا، جو ماننا تھا مان چکے ہیں، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، گواہ موجود ہیں لہذا کارروائی موخر نہیں کی جائے گی، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنا دفاع کریں جو آپ کا حق ہے، شارٹ کٹ نہیں ماریں گے، سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔اس موقع پر ڈی جی پیمرا کی جانب سے نہال ہاشمی کی تقریر کی سی ڈی اور متن سمیت تقریر چلانے والے ٹی وی چینلز کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی گئی۔نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل میں کہا کہ عدالت بتا دے کیا غلطی ہوئی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ غلطی کا تو اپنے فیصلے میں ہی بتائیں گے، نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ وضاحت کے لیے تفصیلی جواب جمع کرانا چاہتا ہوں، عدالت تقریرکا متنازعہ حصہ بتا دے تو ٹھیک ورنہ جو اللہ کو منظور، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے 66 صفحات کا جواب دیا، جس میں 19 دفاع میں لکھے، اب آپ کو اور کیا کہنا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم سمجھ گئے ہیں کیا ہو رہا ہے، اس عدالت میں پراسیکیوٹر کہاں ہے جب کہ ڈی جی پیمرا وضاحت یہاں دیں گے یا اڈیالہ جیل میں۔عدالت نے کئی سی ڈیز کے ساتھ ٹرانسکرپٹ نہ ہونے پر

ڈی جی پیمرآدم خان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر غیر متعلقہ سی ڈیز پیش کی گئیں اور کئی سی ڈیز کے ساتھ ٹرانسکرپٹ بھی نہیں جس پر ڈی جی پیمراہ آدم خان نے کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو کچھ تھا پیش کر دیا۔ نہال ہاشمی کے وکیل نے ڈی جی پیمرا آدم خان سے استفسار کیا کہا کہ کیا ٹرانسکرپٹ میں کسی جج کا نام لیا گیا جس پر آدم خان

نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج کا نام نہیں لیا گیا، سماعت کے دوران عدالت کے اظہار برہمی پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم چھوڑ دیا ، ان کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو مس لیڈ نہیں کرتا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔وکیل نہال ہاشمی نے عدالت سے کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی

جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ حشمت حبیب صاحب اس کیس کو 2019 میں نہ لگائیں، عدالت نے نہال ہاشمی سے اپنے حق میں گواہوں کی فہرست طلب کرتے ہوئے گواہوں کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت21اگست تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…