بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے ڈرائیورز کی ہڑتال ناکام بنادی، متعدد ٹرینیں روانہ

datetime 23  جولائی  2017 |

لاہور(آن لائن) حکومت نے ٹرین ڈرائیورز کی ہڑتال کو ناکام بناتے ہوئے آپریشنز بحال کردیے تاہم احتجاج کے باعث ریلوے انتظامیہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ٹرینوں کی آمد و رفت تاخیر کا شکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہڑتالی ڈرائیوروں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے متبادل ڈرائیورز کا بندوبست کرکے آپریشن بحال کردیا۔ متعدد ٹرینیں اسٹیشنوں سے روانہ ہوگئیں اور کئی گاڑیاں منزل مقصود پر پہنچ گئی ہیں جب کہ ریلوے پولیس نے 13 ٹرین ڈرائیورز کو گرفتار کرلیا ہے۔

لاہور سے کراچی جانے والی فرید ایکسپریس روہڑی اسٹیشن پہنچ گئی، ہزارہ ایکسپریس سٹی اسٹیشن سے کینٹ اسٹیشن پہنچ گئی، جبکہ راولپنڈی سے پہلی ٹرین مسافروں کو لیکر لاہور اور تیز گام ایکسپریس مسافروں کو لے کر کراچی کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔ڈی ایس ریلوے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کیساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی وجہ سے ٹرین ڈرائیورز کے ایک گروہ اور انتظامیہ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ کو آپریشن جاری رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ متبادل ڈرائیورز و فور مینز کے زریعے ٹرین آپریشن جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹرین روانگی میں تاخیر کی وجہ سے ہنگامہ آرائی بھی ہوئی اور مسافروں نے احتجاج کیا۔ترجمان پاکستان ریلویز کے مطابق ہڑتالی ڈرائیوروں کا بڑا مطالبہ خونی حادثات میں ملوث ڈرائیوروں کی بحالی ہے، ناجائز مطالبہ ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ہڑتالی گروپ 43 انسانی جانوں کی ہلاکت کے ذمہ دار 6 ڈرائیوروں کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے، تحقیقات کے بعد یہ ڈرائیور زکریا ایکسپریس، فرید ایکسپریس اور گڈز ٹرینوں کے خونی حادثات کے ذمہ دار قرار پائے گئے ہیں۔ادھر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ کوئی ٹرین نہیں رکی ہوئی اور ریل کار و شالیمار سمیت تمام ٹرینیں روانہ ہوگئی ہیں، ریلوے افسران اور کارکنوں نے میرے ہمراہ ساری رات جاگ کے ہڑتالیوں کو ناکام بنایا،

اگرچہ ہڑتال کی وجہ سے ٹائم ٹیبل اپ سیٹ ہوا تاہم 48 گھنٹوں میں تمام ٹرینوں کی وقت پر آمد اور روانگی یقینی بنائی جائے گئی، ریلوے کے بعض غیر ذمہ دار ڈرائیوروں کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جس پر معذرت خواہ ہیں، جو ڈرائیور ہڑتالی ٹولے کو مسترد کر کے واپس آئے، اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔واضح رہے کہ مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان ریلویز کے 278 ٹرین ڈرائیورز نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…