جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن2018ء کے بائیکاٹ کا خطرہ بڑھ گیا،تحریک انصاف کے بعد ایک اور اہم سیاسی جماعت نے انکار کردیا

datetime 20  جولائی  2017 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی انتخابی اصلاحات کا حکومتی بل مسترد کرتی ہے، جب تک آئندہ الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے مطلوبہ اصلاحات نہیں کی جاتیں حکومت کے مجوزہ بل پر دستخط نہیں کریں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے نام پر جو بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے اس میں کوئی چیز نئی نہیں،

بنیادی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے موجودہ نظام میں چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت برائے نام اور وہ مجبور محض ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں، وہ الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کی اکثریتی رائے کا پابند ہے یعنی اگر کمیشن کے ارکان کی اکثریت کسی جیتے ہوئے رکن اسمبلی کو ناکام قرار دیدے تو چیف الیکشن کمشنر بھی جیتے ہوئے رکن اسمبلی کی دادرسی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی اب تک سو میٹنگز ہو چکی ہیں جن پر قومی خزانے سے سو کروڑ روپیہ خرچ کرنے کے باوجود صفر نتیجہ افسوسناک ہے، یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ان میٹنگز کی کارروائی کو ان کیمرہ یعنی خفیہ رکھا گیا ہے جیسے پارلیمانی کمیٹی الیکشن ریفارمز نہیں بلکہ نیوکلیئر ریفارمز کر رہی تھی، پاکستان مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی اب تک کی تمام کارروائی کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ انتخابی اصلاحات کے نام پر حکومت قوم کے ساتھ کیا مذاق کرنے جا رہی ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ کی نمائندگی سینیٹر مشاہد حسین سید کر رہے تھے جو ان دنوں انڈونیشیاء میں ہیں، میں نے ان کو ہدایت کر دی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کا کوئی نمائندہ حکومتی بل پر دستخط نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف بھی انتخابی اصلاحات کا حکومتی بل مسترد کرچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…