بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کا یہ حال کیوں ہوا؟مولانافضل الرحمان کیا ’’کارروائی‘‘ کرنا چاہتے ہیں؟حکومت سپریم کورٹ کیخلاف کیا کرنیوالی ہے؟آصف علی زرداری کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  جولائی  2017 |

لاہور(آئی این پی) پیپلزپارٹی پارلیمنٹر ین کے سر براہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشر یف استعفیٰ دیں ‘پار لیمنٹ چلنی چاہیے کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں‘ نوازشر یف کی سیاسی شہید ہونے کی خواہش پوری نہیں ہوگی ‘نوازشر یف اور انکی جماعت سپر یم کورٹ کے اختیارا ت کم کر نے کیلئے آرڈننس لانے کے بارے میں بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے ‘ مولانا فضل الر حمن کا نوازشر یف کو ’’ڈٹ ‘‘جانے کا مشورہ ہی مولانا فضل الر حمن کی’’ سیاست‘‘ہے ‘

نوازشر یف کا جو حال ہو رہا ہے وہ کوئی سازش نہیں بلکہ وہ اپنے کاموں کی وجہ سے ایسے مسائل کا شکا ر ہے ۔ اتوار کے روز اپنے ایک انٹر ویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ (ن) لیگ جو مر ضی کر لیں وہ اپنے بچاؤکیلئے سپر یم کورٹ کے اختیارات کو کم کر نے کیلئے قانون سازی نہیں کر سکیں گے کیونکہ پار لیمنٹ میں اپوزیشن کیساتھ ساتھ سڑکوں پر وکلاء اور سول سوسائٹی کا بھی سخت دباؤ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعلی شہبازشر یف کی حکومت ہے جو نوازشر یف کے بھائی ہے اس لیے اگر نوازشر یف کے جیل جانے کی نوبت آتی ہے تو انکا بھائی رائے ونڈ جاتی عمرہ کو بھی سب جیل قرار دے سکتے ہیں مگر اب جے آئی ٹی کی رپورٹ سپر یم کورٹ میں آچکی ہے دیکھتے ہیں اب سپر یم کورٹ میں اس کیس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں نوازشر یف سے استعفیٰ کے مطالبے پر متفق ہیں اس لیے نوازشریف کو چاہیے وہ عہدے سے استعفیٰ دیدیں اور اپنی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنادیں ۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زداری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب نوازشر یف وزیر اعظم کے عہدے سے الگ ہوں گے (ن) لیگ میں ٹوٹ پھوٹ ہوگی مگر کچھ لوگ (ن) لیگ کو چھوڑ کر بھی جاسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی کر پشن اور غیر ملکی قر ضوں سے آنیوالے پیسے کہاں گئے ہیں اسکی شفاف تحقیقات تب ہی ہوگی جب نوازشر یف اقتدار میں نہیں ہوں گے کیونکہ انکی موجودگی میں شفاف احتساب نہیں ہوسکتا ۔ آصف علی زداری نے کہا کہ مولانا فضل الر حمن کی اپنی سیاست ہے اور ہماری اپنی سیاست ہے لیکن جہاں تک مولانا فضل الر حمن کا نوازشر یف کو استعفیٰ کی بجائے ڈٹ جانے کا مشورہ ہے تو یہی مولانا فضل الر حمن کی سیاست ہے کہ مولانا فضل الر حمن سیاست میں رہے لیکن نوازشر یف کے پاس اب استعفیٰ کے سواکوئی آپشن باقی نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…