ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شہری دھڑا دھڑ بھارت کس چیز کی خریداری کیلئے جارہے ہیں؟حیرت انگیزانکشاف،سعودی حکومت نے انتباہ کردیا

datetime 12  جولائی  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)نئی دہلی میں سعودی سفارتخانے کے حکام نے بھارت آنے والے سعودی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بھارت میں قیام کے دوران بھارت کے غریب شہریوں کے گردے مت خریدیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق سفارت خانے میں سعودی اْمور کے انچارج، عبدالوہاب الہاربی نے علاج معالجے کی خاطر بھارت آنے والے سعودی شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ وہ ایسے انسانی اعضاء کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والے ہسپتالوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔

سعودی سفارتی اہلکار کا کہنا تھا کہ غریب بھارتی شہریوں کی طرف سے بیچے گئے انسانی اعضاء اور خاص طور پر گردوں کی پیوند کاری کراتے ہوئے ممکن ہے کہ سعودی شہری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہوں۔یسی خلاف ورزیوں پر بھارتی حکام کی جانب سے سخت سزاؤں کا خطرہ موجود ہے۔سعودی اہلکار نے بھارتی گھریلو ملازمین فراہم کرنے والے ایسے دلالوں سے بھی ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے جو یہ کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ بھارتی حکام گھروں میں کام کرنے والی عورتوں اور آیا کو ریاض میں موجود بھارتی سفارت خانے یا جدہ کے قونصل خانے کے ذریعے دستخط شدہ تحریری معاہدے کے بغیر ملازمت فراہم کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ ایسے تحریر ی معاہدوں کیلئے بھارت کی وزارت محنت کی منظوری بھی لازمی ہے۔سفارتی اہلکار کے مطابق، گزشتہ برس 72,452 سعودی شہریوں نے بھارت کا سفر کیا جن میں سے 61,054 سیاحت کیلئے، 2,333 علاج معالجے کیلئے، 2,701 اعلیٰ تعلیم کیلئے اور 2,208 کاروباری ویزے پر بھارت آئے۔الہاربی نے سعودی اخبار کو بتایا کہ سعودی شہری عام طور پر بھارت میں سیاحت اور علاج معالجے کی خاطر کیرالا، کرناٹکا اور راجستان جانا پسند کرتے ہیں۔ تاہم، سعودی شہریوں کیلئے ضروری ہے کہ اْن کے پاسپورٹ پر بھارتی ویزے کی مہر لگی ہوئی ہو اور جس قسم کا ویزہ ہو اْس پر کاربند رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…