جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

برصغیر پاک و ہند پر برسوں حکمرانی کرنے والے مغلیہ خاندان کے آخری چشم و چراغ نے کہاں اور کس حال میں آخری ایام گزارے؟

datetime 6  جولائی  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سلطنتِ مغلیہ کے آخری تاجداربہادر شاہ کے پڑپوتے اورخاندانِ مغلیہ کے آخری چشم و چراغ استاد محبوب نرالے عالم کی آج بارہویں برسی ہے۔استاد محبوب نرالے سن 1914 میں پیدا ہوئے ‘ آپ عالم انگریزوں کے ہاتھوں جلا وطن ہونے والے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے تھے اور تقسیم کے بعد کراچی آگئے تھے‘ عظیم مغل سلطنت کے اس آخری چشم و چراغ نے اپنی زندگی انتہائی غربت میں بسر کی۔

مغل خاندان کے اس آخری وارث کا دعویٰ تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں سلطنتِ مغلیہ کی جتنی بھی یادگاریں ہیں ‘ وہ سب ان کی قانونی ملکیت ہیں لہذا انہیں واپس کی جانی چاہیے۔انہوں نے ساری زندگی بھارتی سرکار سے یہ مطالبہ کیا کہ دہلی کا لال قلعہ اور محلات ‘ آگرہ کے محلات اور جتنی بھی مغل یادگاریں ہیں ‘ وہ سب ان کی تحویل میں دی جائیں۔ان کی شخصیت ہمہ جہت خصوصیات کی حامل تھی ‘ شہرِ قائد کے بہت سے ادیب‘ شاعر اور صحافی ان کے دوست تھے اور ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔اردو میں جدید جاسوسی ادب کی بنیاد رکھنے والے ابنِ صفی استاد نرالے عالم کی پر مزاح شخصیت سے بے حد متاثر تھے اور انہوں نے اپنی شہرہ آفاق ’عمران سیریز ‘ میں انہیں ایک کردار کے طور پر تراش رکھا تھا ‘ جو کہ عربا اور فارسا ( عربی اور فارسی) کا شاعر تھا اور علی عمران ان کا بہترین دوست تھا۔کہا جاتا ہے کہ عمران سیریز میں استاد محبوب نرالے عالم کے حوالے سے رقم کیے گئے زیادہ تر مکالمے ان کے اپنے تھے اور وہ ان کا حقیقی زندگی میں جابجا استعمال کیا کرتے تھے۔غربت اور بے چارگی کے اس عالم میں ان کے ارد گرد کے لوگوں نے کبھی انہیں سنجیدگی سے نہ لیا جس کا انہیں ساری زندگی قلق رہا اور اکثر اوقات وہ چراغ پاہو کر مذاق اڑانے والوں کو مارنے کے لئے دوڑتے تھے۔

کراچی کی ادبی شخصیات کی ہر دل عزیز شخصیت اور مغل سلطنت کے زوال کی آخری نشانی استاد نرالے عالم 6 جولائی2005 کو کراچی میں کسمپرسی کی عالم میں انتقال کرگئے اور ان کی تدفین اورنگی ٹاؤن کے ایک غیر معروف قبرستان میں کی گئی‘ یوں سلطنتِ مغلیہ کا باب دنیا سے تمام ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…