جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور

datetime 1  جولائی  2017 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی ووڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ایک ماہرمائیکل کوگلمین نے کہاہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور علاقائی صورتحال جیسی چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا یہ ممکنہ قدم کارآمد ثابت ہو گا؟ امریکی ووڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ایک ماہرمائیکل کوگلمین

نے جرمن ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں سختی متعارف کرائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ایسے عناصر کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا چاہیے، خواہ وہ جہاں بھی ہوں۔انہوں نے کہاکہ ایسی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کو توسیع دی جا سکتی ہے اور اسلام آباد کو فراہم کی جانے والی عسکری مالی امداد میں بھی کمی ممکن ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کے حوالے سے سخت نظریات کے حامل اہلکاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو اتحاد کے باہر ایک کلیدی اتحادی ملک کی حیثیت تلف کر دی جائے۔ چند ایک کا تو یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست قرار دیا جائے، جو دہشت گردی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم یہ انتہائی سخت اقدامات اگرچہ انتظامیہ کے اختیارات میں ضرور ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ ان پر فوری عمل در آمد ممکن ہے۔ فی الحال فنڈز کی کٹوتی اور بغیر پائلٹ والے طیاروں کے حملوں کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان اپنی جغرافیہ اور جیو پولیٹیکل عناصر کے سبب انتہائی اہم ملک ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ امریکا افغانستان میں اپنی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے اور اس ملک کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں، تو پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ اچھے روابط اور روس کی طرف جھکا بڑھ رہا ہے۔ یہ بھی اس ملک کو کافی اہم بنا دیتے ہیں۔

دنیا بھر سے مزید خبریں

ایرانی میزائل پروگرام اور قدس فورس کے لیے 31کروڑ ڈالر کا بجٹ مختص

تہران(این این آئی) ایران نے اپنے متنازع میزائل پروگرام اور قدس فورس پر اخراجات کو بڑھانے کے واسطے خطیر بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا تخمینہ 62 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ قدس فورس ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کا ونگ ہے۔ اس کا نام 2007 سے بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق فہرست میں درج ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ایرانی مجلسِ شوری میں تحقیقی مرکز کے سربراہ کاظم جلالی کے حوالے سے بتایا کہ امریکی پابندیوں سے متعلق اقدامات کے جواب میں ایرانی میزائل سرگرمیوں کی توسیع کے واسطے 1000 ارب تومان (31.25 )کروڑ ڈالرمالیت کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اتنی ہی قیمت کا بجٹ قدس فورس کی سپورٹ کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنی پہلی مدت صدارت کے اختتام سے دو ماہ قبل ایران کے سالانہ مالی بجٹ میں پاسداران انقلاب کے لیے مختص رقم میں 24% کا ریکارڈ اضافہ کر دیا تھا۔روحانی نے دفاعی بجٹ میں 14 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جس میں 53% پاسداران انقلاب کے حصے میں آیا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے میزائلوں کی تیاری کے لیے زیرِ زمین تیسرے کارخانے کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران پوری طاقت کے ساتھ میزائلوں کی تیاری اور اس کے ترقیاتی پروگرام کے علاوہ بیلسٹک تجربات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا تھا کہ ان کا ملک میزائل تجربات نہیں روکے گا اور جب بھی اس کی ضرورت پڑی تو وہ یہ تجربات کرے گا۔ روحانی کا یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے اس مطالبے کے جواب میں آیا جو انہوں نے ریاض میں عرب اسلامی امریکی سربراہ کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ ٹیلرسن نے روحانی سے مطالبہ کیا تھا کہ کہ تہران کی جانب سے بیلسٹک تجربات کو روک دیا جائے اور خطے میں ایران کے دہشت گردی نیٹ ورک کو ختم کیا جائے۔

اسپین میں انسانی ٹاورز کا سالانہ میلہ،ہزاروں افرادکی شرکت

بارسلونا(این این آئی)انوکھے تہواروں کے انعقاد کی وجہ سے مشہور ملک اسپین کے شہر بارسلونا میں انسانی مینار بنانے کے دلچسپ مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس فیسٹیول کے موقع پر منعقد کئے گئے خصوصی مقابلے میں ملک بھر سے آئے سینکڑوں کرتب بازوں نے شرکت کی۔ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس کرتب بازوں نے ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوکر انسانی مینار تخلیق کیے۔انسانی ٹاور بنانے کے مقابلے میں مرد و خواتین کے علاوہ بچوں نے بھی حصہ لیا اور داد وصول کی۔یہ حیرت انگیز کارنامے دیکھنے آئے ہوئے ہزاروں افراد بھرپور لطف اندوز ہوئے اور مقابلے کے شرکا کو دل کھول کر سراہا۔واضح رہے کہ کاسٹلزانسانی ٹاور تعمیر کرنے کی روایت18ویں صدی میں اسپین کے شہرتاراگوناسے شروع ہوئی جو آج تک چلی آرہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…