جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ بم دھماکے میں ممکنہ طورپر استعمال ہونے والی گاڑی کراچی کے شہری کی نکلی

datetime 23  جون‬‮  2017 |

کراچی (آن لائن)کوئٹہ بم دھماکے میں ممکنہ طورپر استعمال ہونے والی گاڑی کراچی کے شہری کی نکلی۔ذرائع کے مطابق دھماکے کے مقام پر تباہ ہونے والی گاڑی کا نمبر ٹی4377 ہے۔ گاڑی کورنگی فائیو بی کے رہائشی جمیل الرحمن کے نام پر ہے۔گاڑی کا ماڈل1986ء ہے جس کی ٹیکس آخری بار2008 میں جمع کرایا گیا تھا۔ دھماکے کی جگہ پر گاڑی کے ٹکڑے دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان کے

دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6سیکیو رٹی اہلکا رو ں سمیت9 افراد جاں بحق اور 16 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔حکام کے مطابق بم دھماکا کوئٹہ کے گلستان روڈ پر قائم انسپکٹر جنرل آئی جی پولیس احسن محبوب کے دفتر کے قریب ہوا۔رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔واقعے کے بعد ریسکیو عملے نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو علاج کے لیے کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کیا۔پولیس نے بتایا کہ زخمیوں میں 10 سالہ بچی بھی شامل ہے جبکہ سول ہسپتال کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے جہاں کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔پولیس نے دھماکے میں ہلاکتوں میں اضافے کا نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گلستان روڈ پر قائم آئی جی کے دفتر کے قریب ہونے والے دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔دھماکے کے نتیجے میں محکمہ تعلیم کی عمارت کو نقصان پہنچا جبکہ ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی گاڑی میں بارودی مواد رکھا گیا تھا۔سول ہسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ

زخمیوں میں سے 3 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو بھی شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ دھماکے کے مقام پر انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچھ سال قبل بھی دہشت گردوں نے اس مقام کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد اس چوک کا نام شہدا چوک رکھا گیا تھا، جسے آج ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے فورسز کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کا دعوی ہے کہ صوبے میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ملوث ہے، جو مقامی علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیموں کو مدد فراہم کررہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…