جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’کچھ لوگ اقتدار کے لئے زبان لٹکائے کشکول اٹھائے کبھی پنڈی تو کبھی ابپارہ پھرتے ہیں‘‘،خواجہ آصف کے صبرکاپیمانہ لبریز،کیاسے کیاکہہ گئے

datetime 15  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے پر کوئی دباؤ نہیں اور عدلیہ کی سربلندی کو اپنی سربلندی سمجھتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ تاریخ کا پہیہ موڑنا چاہتے یہں۔ کچھ لوگ اقتدار کے لئے زبان لٹکائے کشکول اٹھائے کبھی پنڈی تو کبھی ابپارہ پھرتے ہیں۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی

خواہشات ہیں کہ ملک کا کلچر تبدیل نہ ہو مگر وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر سب کو واضح پیغام دیا کہ اب ملک عدل و انصاف سے آگے بڑھے گا۔ مگر بہت سے لوگ ابھی چاہتے ہیں کہ نواز شریف ماضی کی تاریخ دہرائی جائے۔ وہ تاریخ کا پہیہ پھر سے موڑنا چاہتے ہیں۔ 2014ء کا دھرنا ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار لگے رہتے اقتدار کے لئے زبان لٹکائے ہوئے عمران خان کبھی پنڈی تو کبھی آبپارہ میں کشکول لے کر پھرتے ہیں کوئی ان کی جھولی میں کچھ ڈال دے۔ امید ہے یہ خالی جھولی لے کر پھرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اکتوبر2007ء میں عدلیہ کی بحالی اور گورنر راج کے خلاف استعفے دیئے ہم پر کیسے الزام لگا سکتے ہیں کہ ہم عدلیہ پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ عدلیہ کی سربلندی ہماری سربلندی ہے۔ سینکڑوں اربوں روپے کا نقصان ہوا جب جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو جواب کے لئے طلب کیا۔ ہماری سٹاک ایکسچینج مارکیٹ کریش کر گئی۔ 18سو سے زائد پوائنٹ گر گئے۔ ہماری سٹاک مارکیٹ کو دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ ان کے ایسے ہتھکنڈوں سے نہ صرف ملک معاشی طور پر تباہ ہو گا بلکہ اس کی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل بھی بڑے بڑے مسائل کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا ۔ انشاء اللہ اس دفعہ بھی سرخرو ہو کر باہر آئیں گے۔ موجودہ صورتحال پر ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…