جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطر نے بھی رنگ دکھانا شروع کردیئے،سعودی عرب اورامارات سے مذاکرات ہوئے بھی تو اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی، حیرت انگیزاعلان کردیاگیا

datetime 13  جون‬‮  2017 |

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اوردیگرخلیجی ممالک کے ساتھ قطرکے تنازع کی اہم ترین وجہ الجزیرہ ٹی وی ہے ،قطرسے سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں نے مطالبہ کیاتھاکہ اس چینل کی نشریات متنازع ہیں اس لئے اس کوبندکردیاجائے لیکن قطرنے ایساکرنے سے انکارکردیاتھا۔اسی چینل کی رپورٹ کے مطاقب قطرکے وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہاہے کہ سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں

سے تنازع کے حل کےلئے جوبھی مذاکرات ہونگے اس کے ایجنڈے میں الجزیرہ چینل کاذکرتک نہیں ہوگا،قطری وزیرخارجہ کااس حوالے سے کہناہے کہ الجزیرہ چینل قطرکااندرونی معاملہ ہے اورقطرکابائیکاٹ کرنے والے ممالک کااس سے کوئی تعلق نہیں اس لئے مذاکرات میں اس چینل کی بندش کے بارے میں کوئی گفتگونہیں ہوگی ۔پیرس میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قطرکے وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہاکہ مجھے اس بات کابھی علم نہیں کہ سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں نے ہمارے ملک سے کیوں تنازع کھڑاکررکھاہے اورہمارے ساتھ تعلقات منقطع کررکھے ہیں ۔انہوں نے کہابائیکاٹ کاتعلق ایران یاالجزیرہ سے نہیں بلکہ اس کی وجوہات کچھ اورہیں ۔قطری وزیرخارجہ نے کہاکہ قطرکسی بھی ملک کواپنے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دے گا۔واضح رہے کہ قطرسے تعلقات ختم کرنے کے بعد سعودی حکومت نے الجزیرہ کے ریاض میں بیوروآفس کوبندکردیاہے اوراس چینل پرالزام عائدکیاہے کہ یہ دہشتگردوں کی حمایت کررہاہے جبکہ سعودی عرب کے دیگراتحادی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کواس چینل کونہ دیکھنے کے احکامات جاری کررکھے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…