جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا ایسا علاقہ جہاں ہزاروں ہندو بھی مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں!!!

datetime 11  جون‬‮  2017 |

راجھستان(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی کے بہت سے مظاہرے دیکھے ہوں گے، لیکن آپ نے شاید کسی ہندو کو مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھتے نہ دیکھا ہو۔ ایسی حقیقت بھارت کی ریاست راجھستان میں موجود ہے جہاں ہندو افراد مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لیے رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔راجھستان کے بارمر اور جیسلمر ضلع میں مذہبی ہم آہنگی کا بہترین مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہاں مسلمان نہ صرف ہندؤوں کے ساتھ ہولی اور دیوالی مناتے ہیں بلکہ ہندو ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر ماہ رمضان میں روزے بھی رکھتے ہیں۔یہی نہیں ہندو اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے ساتھ 5 وقت نماز بھی پڑھتے ہیں۔ بقول ان کے اس طرح ان پر بھی خدا کی رحمتیں نازل ہوں گی۔ مسلمان بھی ان کے ہولی اور دیوالی کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں اور دیگر مذہبی تہواروں پر ان کے ساتھ مذہبی گیت یا بھجن بھی گاتے ہیں۔بارمر کے رہائشی شنکر رام کے مطابق، ’ہمارا مذہب مختلف ہے لیکن روایات مشترک ہیں۔ ہمارے یہاں چھوٹے بچے بھی روزہ رکھتے ہیں‘۔یہ روایت صرف ان 2 ضلعوں میں ہی نہیں بلکہ پورے راجھستان میں ہے۔ یہاں کے علاقے گوہڑ کا تلہ میں واقع سعید کسم درگاہ میں بھی مسلمان اور ہندو دونوں ہی حاضری دیتے ہیں۔راجھستان میں یہ روایات عام تو ہیں، مگر ان کا آغاز کب اور کیسے ہوا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہاں کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جو تقسیم بھارت کے وقت سندھ سے ہجرت کر کے آئے تھے۔بارمر میں ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یہاں لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں اور دکھوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ سوچنا بھی ناممکن ہے کہ کسی مسلمان کو ہندو یا ہندو کو کسی مسلمان سے الگ کردیا جائے۔پاکستان اور بھارت میں جہاں شرپسند عناصر کی جانب سے مذہبی تنگ نظری کو فروغ دیا جارہا ہے وہاں یہ منظر مذہبی رواداری کی بہترین مثال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…