حضرت ابن عمرؓ کے ہاں دعوت وغیرہ میں عام طور پر معمول سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ابن عمرؓ کا دسترخوان اس دن بھی تکلفات سے خالی ہوتا تھا، آپ کے غلام نافع کا بیان ہے کہ ایک دن ایک اونٹنی ذبح کی اور مجھ سے کہا مدینہ والوں کو مدعو کر آؤ۔ میں نے عرض کیا کس چیز کی دعوت ہے، روٹی تک تو ہے نہیں، فرمایا بس خدا تم کو بخشے گوشت موجود ہے، شوربہ موجود ہے، جس کا دل چاہے گا کھائے گا، جس کا دل نہ چاہے گا نہ کھائے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا
-
امریکا اور ایران کے درمیان نئی تجاویز پر اتفاق ہوگیا، واشنگٹن ٹائمز
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
وزیراعظم کی ژجیانگ میں وانگ ہا سے ملاقات، کئی معاہدوں پر دستخط
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
شکار پور پولیس کا کچے میں آپریشن، پشاور سے اغوا کی گئی لڑکی بازیاب، دو ڈاکو ہلاک



















































