جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کشمیر میں بار بار کرفیو اور مواصلاتی بلیک آوٹ تشویشناک، بھا رت کشمیر تک غیر مشروط رسائی دے ، اقوام متحدہ

datetime 8  جون‬‮  2017 |

جنیوا(آن لائن)اقوام متحدہ نے ایک بار پھر انسانی حقوق کے کارکنوں کو مقبوضہ کشمیرتک غیرمشروط رسائی کامطالبہ دہراتے ہوئے مقبوضہ وادی کشمیر میں ظلم و تشددکے واقعات،شہریوں کا قتل عام ،باربارکرفیواورمواصلاتی بلیک آؤٹ کی اطلاعات پپر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے سربراہ زیدرعدالحسین نے جنیوا میں عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل کے 35ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کشمیرمیں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر

شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارت پرپھرزوردیا کہ وہ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کی ٹیم کومقبوضہ علاقے کادورہ کرکے وہاں کی صورتحال کاازخودجائزہ لینے کی اجازت دے۔ زیدرعدالحسین نے نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کوآزاد کشمیر تک رسائی فراہم کی جاتی ہے لیکن بھارت نے انسانی حقوق کی ٹیموں کی مقبوضہ کشمیر تک رسائی بند کررکھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میری ٹیموں کوکنٹرول لائن کے آرپارسرحدی اورآبادی والے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جس وجہ سے ہم وہاں کی اصل صورتحال کے بارے میں پوری جانکاری حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔ زیدرعدالحسین نے واضح کیاکہ یواین ہیومن رائٹس کونسل کوپتہ ہے کہ دنیاکے کس علاقہ یاخطے میں حقوق انسانی کی صورتحال کیسی ہے ،کیونکہ جب ہماری ٹیموں اوراراکین کوایسے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے توہم دیگرذرائع سے ایسے علاقوں میں زمینی صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے اسکے ساتھ ہی کہاکہ کشمیربھی ایک ایساہی علاقہ ہے جہاں میری ٹیموں اورساتھیوں کوجانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے لیکن ہمیں وہاں سے جواطلاعات ملتی رہتی ہیں ،وہ کسی بھی اعتبارسے اطمینان بخش نہیں کیونکہ متواترایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ

کشمیرمیں تشدد،شہری ہلاکتوں ،کرفیواورمواصلاتی بلیک آؤٹ جیسی صورتحال آئے دنوں پیداہوجاتی ہے ،جس وجہ سے وہاں رہنے والے لوگوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں۔اقوا م متحدہ کے شعبہ حقوق البشرکے سربراہ زیدرعدالحسین اس عنوان کہ اقوام متحدہ اداروں کیساتھ عدم تعاون اورمتاثرہ علاقوں تک رسائی سے انکارکی وجہ سے اصل واقعات کی جانچ پڑتال میں مشکلات درپیش ا?تی ہیں ،پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم بھارت سرکارسے کشمیرتک رسائی کی مانگ کرتے ہیں تاکہ یواین ہیومن رائٹس کونسل کے اراکین وہاں جاکرلوگوں سے بات کرسکیں اورحقوق انسانی پامالیوں اورخلاف ورزیوں سے متعلق گواہوں کے بیانات قلمبندکرسکیں۔انہوں نے واضح کیاکہ جب ہماری ٹیموں کومتاثرہ علاقوں میں جاکرمتاثرین کیساتھ رابطہ کاموقعہ فراہم کیاجائیگاتوہم صحیح معنوں میں اصل صورتحال کے بارے میں رپورٹ مرتب کرپائیں گے۔ اْدھر سوئز ر لینڈکے شہرجنیوامیں یونائٹیڈنیشنزہیومن رائٹس کونسل کے جاری 17روزہ اجلاس میں شامل پاکستانی زیرانتظام کشمیرکے 10رْکنی وفدنے کشمیروادی اورلائن ا?ف کنٹرول کی تازہ صورتحال سے متعلق دستاویزی ثبوت وشواہدپرمبنی کتابچے شرکاء اجلاس کوپیش کئے۔الطاف احمدوانی ، سیدفیض نقشبندی ،سردارامجد،یوسف خان ،شمیمہ شال ،حسن البناء ،شگفتہ اشرف،احمدقریشی اورایڈوکیٹ پرویزشاہ بھی شامل ہیں۔ اْدھرسوئزرلینڈکے شہرجنیوامیں یونائٹیڈنیشنزہیومن رائٹس کونسل کے جاری 17روزہ اجلاس میں شامل آزاد کشمیرکے 10رْکنی وفدنے کشمیروادی اورکنٹرول لائن کی تازہ صورتحال سے متعلق دستاویزی ثبوت وشواہدپرمبنی کتابچے شرکاء اجلاس کوپیش کئے۔ اسبات پرزوردیاہے کہ دونوں ملک UNHRکی ٹیموں کواپنے اپنے کنٹرول والے کشمیرمیں جانے کاموقعہ فراہم کریں تاکہ ٹیموں میں شامل اراکین ازخودوہاں صورتحال کاجائزہ لے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…