منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

’’دعائے موسیٰ ؑاور ایک گناہ گارکی توبہ ‘‘

datetime 6  جون‬‮  2017 |

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے پاس گے اور عرض کیا: یا کلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائےچنانچہ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لیے آ گئے۔یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے کچھ زاہد تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی

“میرے پروردگار! ہمیں بارش سے نواز، ہمارے اوپر رحمتوں کی نوازش کر۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، بے زبان جانور اور بیمار سبھی تیری رحمت کے امیدوار ہیں،تو ان پر ترس کھاتے ہوئے ہمیں اپنی دامنِ رحمت میں جگہ دے۔”دعائیں ہوتی رہیں مگر بادلوں کا دور دور تک پتا نہ تھا، سورج کی تپش اور تیز ہو گئی۔ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی:” تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نا فرمانی کر رہا ہے اور گناہوں پر مصر ہے۔ اے موسیٰ! آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ نکل جائے، کیوں کہ اس آدمی کی وجہ سے بارش رْکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہوگی۔”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: باری تعالیٰ! میں کمزور سا بندہ، میری آواز بھی ضعیف ہے،یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں، میں ان تک اپنی آواز کیسے پہنچاؤں گا؟جواب ملا:” تیرا کام آواز دینا ہے،پہنچانا ہمارا کام ہے۔”حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آواز دی، اور کہا:” اے رب کے گناہگار اور نافرمان بندے! جو گزشتہ چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اس کو دعوتِ مبارزت دے رہا ہے…. لوگوں میں سے باہر آجا، تیرے ہی کالے کرتوتوں کی پاداش میں ہم بارانِ رحمت سے محروم ہیں۔

“اس گناگاربندے نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے۔سوچا کہ اگر میں تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بے حد شرمندگی ہو گی اور میری جگ ہنسائی ہو گی۔اور اگر میں باہر نہ نکلا تو محض میری وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔اب اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا، اپنے گزشتہ افعال و اعمال پر شرمندہ ہوا اور یہ دعا کی

” اے میرے رب! تو کتنا کریم ہے اور بردبار ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا۔ اور اب تو میں یہاں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے معاف فرما کر آج ذلت و رسوائی سے بچالے۔ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان بادلوں سے بھر گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔

اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ عرض کیا: یا الہٰی! آپ نے بارش کیسے برسانا شروع کردی ،وہ نافرمان بندہ تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے موسیٰ! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہا ہوں، اس لیے کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: یا اللہ ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تا کہ میں اس کو دیکھ لوں؟

فرمایا:” اے موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا ،اور اب جب کہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کروں؟”وہ ایک گناہگار اور نافرمان شخص تھا اور اس کی بدولت بارش کا نزول نہیں ہو رہا تھا اور چند کو چھوڑ کر تمام اْمت ہی گناہگار اور غفلت میں ہو تو پھر کیا حشر ہوگا؟

سورہ الجن آیت نمبر 16 میں رب تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:”لوگ اگر راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی دیتے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…