پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

تم اجر حاصل کرنا چاہتی ہو؟

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم سے ردائے شب دور کی اور عوام الناس کی خبرگیری کیلئے گھٹاٹوپ اندھیرے میں گشت کرنے لگے۔ اچانک ایک گھر سے کسی عورت کے رونے کی آواز سنی تو قریب گئے تو ایک آدمی نظر آیا جو گھر کے دروازہ کے سامنے اکڑوں بیٹھا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ ایک صحرا نشین آدمی ہے۔

امیرالمومنین کے پاس حاضر ہوا ہوں تاکہ ان سے کوئی مہربانی حاصل کروں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آواز جو میں گھر سے آتی سن رہا ہوں یہ کیسی ہے؟ اس آدمی نے کہا کہ میری بیوی دردِ زہ میں مبتلا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کے پاس کوئی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنی زوجہ حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا تم اجر حاصل کرنا چاہتی ہو؟ بیوی نے کہا کہ کیسا اجر؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک بیچاری عورت دردِ زہ میں مبتلا ہے اور اس کے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں، اگر آپ چاہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر کپڑا، تیل وغیرہ جو ایک عورت کو ولادت کے وقت چاہئے ہوتا ہے وہ لے لو اور ایک ہانڈی جس میں چکنائی ہو اور آٹا لے آؤ۔ چنانچہ وہ یہ چیزیں لے آئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان تمام چیزوں کو اپنی کمر پر لادا اور بیوی سے کہا کہ تم چلو۔ وہ آپ کے پیچھے پیچھے چلتی گئیں۔ یہاں تک کہ اس گھر تک پہنچ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اس عورت کے پاس اندر چلی جاؤ۔ خود آئے اور اس آدمی کے پاس بیٹھ گئے اور ہانڈی کے نیچے آگ جلائی اور خود پھونکنے لگے، دھواں آپ رضی اللہ عنہ کی داڑھی میں پہنچ رہا تھا۔ یہاں تک کہ ہانڈی پک کر تیار ہو گئی اور عورت نے بچہ بھی جنم دیا۔ بچہ کے رونے کی آواز آئی۔

ام کلثوم نے کہا، امیرالمومنین! اپنے دوست کو بچہ کی خوشخبری دیجئے۔ جب اس دیہاتی نے امیرالمومنین کا لفظ سنا تو ہکا بکا رہ گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت کے مارے پیچھے ہٹنے لگا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ کچھ خیال نہ کرو، اپنی جگہ پر ہی رہو۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ہانڈی اٹھائی اور دروازہ پر رکھ کر (اپنی بیوی سے) کہا کہ اس عورت کو پیٹ بھر کر کھلاؤ۔

چنانچہ انہوں نے اس عورت کو پیٹ بھر کر کھلایا اور پھر وہ ہانڈی باہر دروازہ پر رکھ دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس ہانڈی کو اٹھایا اور اس آدمی کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا کہ کھاؤ، کھاؤ! تو رات بھر جاگتا رہا ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ باہر آ جاؤ اور اس آدمی سے فرمایا کہ تم صبح کو آ جانا ہم تمہارے لئے سامان ضروریات کا حکم دے دیں گے، چنانچہ وہ آدمی حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو ضروری اشیاء فراہم کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…