جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانا سنگین غلطی ‘‘

datetime 20  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں لے جانے کو سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر عالمی عدالت میں لے جانے کا موقع دے دیا۔بھارتی اخبار’’ انڈین ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مارکنڈے کاٹجو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ پاکستان بہت

خوش ہوگا کہ ہم نے محض ایک شخص کے لیے آئی سی جے کا در کھٹکھٹایا کیوں کہ اب وہ ہر طرح کے مسائل بالخصوص مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر اٹھاسکتے ہیں جس پر اب تک ہم اعتراض کرتے رہے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ آئی سی جے میں جاکر ہم نے شائد ایک پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔مارکنڈے کاٹجو کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی سی جے کے دائرہ اختیار کے حوالے سے پاکستان نے معمولی اعتراض اس لیے کیا کیوں کہ بظاہر وہ سمجھتا ہے کہ بھارت نے ایسا کرکے اسے دیگر تنازعات کو عالمی عدالت میں اٹھانے کا موقع فراہم کردیا۔انہوں نے لکھا کہ ہم پاکستان کے آلہ کار بن گئے اور اسے یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ وہاں دیگر تمام معاملات بھی اٹھادے، درحقیقت یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے آئی سی جے کے دائرہ اختیار پر سخت اعتراضات نہیں اٹھائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب اگر پاکستان کشمیر کے معاملے پر آئی سی جے میں جاتا ہے تو بھارت بھی عالمی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کرسکے گا۔مارکنڈے کاٹجو کے مطابق اب یہ بات طے ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے تصفیے کے لیے آئی سی جے سے رجوع کرے گا اور پھر ہمارے لیے اس کے دائرہ اختیار پر اعتراض کرنا بہت مشکل ہوگا۔خیال رہے کہ 18 مئی کو آئی سی جے نے کلبھوشن کے معاملے پر بھارتی درخواست پر عبوری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پاکستان کو ہدایت دی

تھی کہ جب تک حتمی فیصلہ نہیں آجاتا پاکستان کلبھوشن کو پھانسی نہیں دے سکتا۔اس فیصلے کو پاکستان کی ہار اور بھارت کی جیت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں تجزیہ کار اس پر شدید تنقید بھی کررہے ہیں۔بھارت نے آئی سی جے میں دائر کردہ اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود پاکستانی انتظامیہ بھارت کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی فراہم نہیں کررہی جو کہ ویانا

کنوینشن کی خلاف ورزی ہے۔جبکہ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف دائر بھارتی درخواست پر پاکستانی وکلا کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا اس لیے یہاں کیس نہیں چلایا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…