منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

   کوکا کولا کمپنی کا مالک کہتا ہے کہ

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

کوکا کولا کمپنی کے مالک برائن ڈائی سن نے کام اور نوکری کی اہمیت بتائی۔ اس نے بولا کہ یہ سمجھو کہ تم ایک گیم کھیل رہے ہو۔ تمہارے پاس ایک وقت میں پانچ گیندیں ہیں۔ ان میں ایک تمہاری نوکری ہے، دوسری فیملی، تیسری تمہارے دوست یار، چوتھی تمہاری روح اور پانچویں تمہاری صحت ہے۔ تم ایک وقت میں کسی جوکر کی مانند ان سب کو اچھال رہے ہو۔ یاد رکھو کہ ان میں سے صرف تمہاری نوکری ایک ایسی گیند ہے۔

جو ربر کی بنی ہے اور کسی بھی وقت گر بھی پڑے تو نیچے باؤنس کر کے واپس اوپر آجائے گی۔ لیکن اس کے علاوہ باقی چاروں گیندیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نیچے گر جائے تو یا تو اس پر نشان رہ جائیں گے یا مکمل طور پر کرچی کرچی ہو جائیں گی۔باقی چاروں گیندیں کانچ کی ہیں۔ اب تمہیں خیال رکھ کر ان سب کو ہوا میں اچھالتے رہنا ہے۔اس کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ اپنی روح، صحت، فیملی اور دوستوں کو کسی صورت کھونا نہیں چاہیے۔ جب ہم ان میں سے کسی کو بھی نظر انداز کرتے ہیں تو وہ زندگی بھر کا نقصان ہوتا ہے۔ اگر صحت کو نظر انداز کرنے لگیں تو وہ اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ بندہ پکا پکا بیمار رہنے لگتا ہے اور صحت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اسی طرح اگر انسان اپنی روح کی پیاس بجھانا بند کر دے تو وہ خالی ہو جاتی ہے اور اس کی ویرانی بھی کبھی دوبارہ دور نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی روح کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ انسان اگر اپنے دوستوں یاروں کو کم وقت دے تو وہ اس بات کو یاد رکھتے ہیں اور ان کے دل پر نقش ہو جاتا ہے کہ کسی وقت یہ ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترا تھا۔ اس طرح اوپر اوپر سے تو تعلقات ٹھیک رہتے ہیں لیکن دلوں میں فاصلے آجاتے ہیں۔ اگر انسان اپنی فیملی کو نظر انداز کرے تو ان کو آپ کے بغیر زندگی گزارنے کی عادت پڑ جاتی ہے اور وہ آپ سے کوئی امید نہیں رکھتے۔ ایسے میں انسان کی ایسی تلخ یادیں بن جاتی ہیں جو ساری زندگی اس کے دل کے ذخم بن کر اس کو ستاتی رہتی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…