جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

’’ ٹرمپ بن سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں ‘‘

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)ڈونلڈ ٹرمپ ایک زمانے میں ٹی وی اسٹار تھے اور اب وہ امریکا کے صدر کی حیثیت سے وائٹ ہائوس میں مقیم ہیں، جس نے ہولی وڈ کے دیگر افراد کو بھی سیاسی میدان میں قسمت آزمائی پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے

ان میں سب سے نمایاں ڈیوائن جانسن المعروف دی راک ہیں۔ہالی ووڈ کے سب سے زیادہ کمانے والے اداکار اور سابق مقبول ترین ریسلر دی راک نے جی کیو سے انٹرویو کے دوران امریکی صدارت کی دوڑ کا حصہ بننے کے سوال پر کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک حقیقی امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ان کی حمایت کے خواہشمند تھے۔انہوں نے کہاکہ مجھے ایسا لگتا کہ میں ایسی پوزیشن میں ہوں جہاں میرے الفاظ کا وزن اور اثر بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ میری حمایت چاہتے تھے، مگر میں اس عمل کا بہت احترام کرتا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ اگر میں عوامی سطح پر اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کروں تو کچھ چیزیں ہوں گی، ہوسکتا ہے کہ لوگ ناخوش ہوجائیں یا وہ اس سے متاثر ہوجائیں تو میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ماضی میں بھی دی راک سیاست میں دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں اور گزشتہ سال ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ مجھے ملک سے محبت ہے، مجھے اب لگتا ہے کہ قیادت بہت اہمیت رکھتی ہے، اچھی قیادت بہت اہم ہے، قابل احترام قیادت بہت اہم ہے۔اسی طرح ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ  میں 2020 کے صدارتی انتخابات کا حصہ بننے کا امکان رد نہیں کرسکتا، یہ لوگوں کی مدد کا بہترین موقع ہوگا تو ایسا بالکل ممکن ہے، حالیہ انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…