اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

’’ میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو شدید خطرہ ہے ‘‘ وزیر اعظم کے قابل اعتماد ساتھی اور اہم ملکی شخصیت نے آرمی چیف سے مدد مانگ لی

datetime 9  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان میڈیاالیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم نے کہا ہے کہ میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ، جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ،

بعض چینلز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ، ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے اسلئے آرڈرز کی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا ، پیمرا اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔وہ پیر کویہا ں پریس کا نفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کے ادارے کو بلاجواب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، تمام ادارے آئین کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کے تحت پیمرا کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیمرا آئین اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا ہے ۔ چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے دھمکی آمیز کال کی آڈیو بھی میڈیا کو سنائی ، ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کیلئے موجودہ صورتحال میں کام کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے ، بعض چیلنجز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کام بہتر انداز میں سر انجام دینے کیلئے وفاق سے مدد مانگی ہے ، زیر التواء کیسز نمٹانے کیلئے سپریم کورٹ کو بھی خط لکھا ہے ، عدالت سے استدعا ہے کہ زیر التوا درخواستیں جلد نمٹائی جائیں ، تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ۔ ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ ایک سال 5ماہ سے میری وزارت پر بھی الزامات لگتے رہے ،

پیمرا کے اختیار کو محدود کردیا گیا ، وزیراعظم ، آرمی چیف دھمکیوں کا نوٹس لیں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، میرے خلاف باتیں کرنے والوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں ، میں نے گزشتہ سال 82لاکھ ٹیکس ادا کیا ، میرے دو بھائی تحریک نظام مصطفی کے دوران شہید ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا سٹے آرڈرزکی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ،

جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، ہمیں کونے سے لگا دیا گیا ہے ، وزیراعظم ، چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، ہمیں آوازیں بدل کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، ہمیں نہیں پتہ کہ دھمکیاں دینے والے شخص کون ہیں ۔ (ن م)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…