جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

میری لاش کو کاٹ ڈالیں گے

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کاٹکراؤ حجاج بن یوسف کے ساتھیوں سے ہواتو دشمن بہت زیادہ تھے، عبداللہ بن زبیرؓ کے ساتھ چند سو ساتھی تھے جو ایک ایک کرکے شہید ہو گئے تھے، پھر ان کو بھی اندازہ ہو گیا کہ آج میری زندگی کا آخری دن ہے، چونکہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر ہی تھے اس لیے ان کے دل میں خیال آیا کہ میں اپنی والدہ کو آخری وقت میں جا کر سلام ہی کر لوں، چنانچہ وہ اپنی والدہ حضرت اسماءؓ کے پاس پہنچ گئے،

حضرت اسماءؓ اس وقت بوڑھی ہو چکی تھیں اور آنکھوں پر موتیا اترنے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی، دیکھ نہیں سکتی تھیں، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے عرض کیا: امی! میں آپ کو آخری مرتبہ سلام کرنے آیا ہوں، پوچھا بیٹا: تمہیں کس بات کی پریشانی ہے؟ عرض کیا: امی! مجھے خوف ہے کہ جب یہ لوگ مجھے شہید کر دیں گے تو میری لاش کو کاٹ ڈالیں گے، قیمہ بنا ڈالیں گے، مثلہ کر دیں گے، بوڑھی ماں کہتی ہے: بیٹا! جب بکری کی جان نکال لی جاتی ہے تو پھر اس کی بوٹیاں کریں یا کھال اتاریں، اس سے بکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حضرت نے عرض کیا: اچھاامی! میں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور اب واپس جا رہا ہوں، ماں نے کہا: واپس تو چلے جانا مگر جانے سے پہلے ذرا میرے قریب ہو جا میں تیری شکل تو نہیں دیکھ سکتی، مگر میں چاہتی ہو کہ تمہارا بوسہ لوں اور تمہارے جسم کی خوشبو سونگھ لوں، بالآخر ماں نے اپنے بیٹے کو رخصت کرتے ہوئے تین باتیں کہیں، کہا:*۔۔۔ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ یہ عبداللہ میرا وہ بیٹاہے جو سردیوں کی لمبی راستوں میں تیرے سامنے مصلے پر کھڑا رہتاتھا۔*۔۔۔ اے اللہ! یہ میرا وہ بیٹاہے جوگرمی کے لمبے دنوں میں تیری رضا کی خاطر روزہ رکھتا تھا۔*۔۔۔ اے اللہ! یہ میرا وہ بیٹا ہےجس نے خدمت کے ذریعہ اپنے بڑوں کا دل خوش کر دیا، اے اللہ! تو بھی اس سے راضی ہو جا۔اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓ باہر آئے اور آتے ہی شہید ہوگئے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…