منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کھلے فوڈ آئٹمز کی فروخت پر پابندی لگانے کافیصلہ،حیرت انگیزاعلان کردیاگیا،تاجر ششدر

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے کہا ہے کہ قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلیاں کردگئی گئی ہیں جن کے تحت ڈیڑھ سال کے اندر کھلی فوڈ آئٹمز کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی، اس سے ملاوٹ کا خاتمہ ہوگا اور لوگ بیماریوں سے بچیں گے۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط اور نائب صدر ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر بتائی۔

نور الامین مینگل نے کہا کہ کھلی آئٹمز کی فروخت پر پابندی سے فوڈ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد اسے اپنے ریڈار میں لانا ہے تاکہ ملاوٹ و جعلسازی کا خاتمہ کیا اور اْن کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جاسکے جو انسانی جانوں کے ساتھ ایماندار تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی نقصان پہنچارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو وزیراعلیٰ پنجاب کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے، ابھی یہ پانچ اضلاع میں کام کررہی ہے جبکہ 31دسمبر تک اس کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیل جائے گا۔ گلی محلوں میں موبائل ٹیمیں کام کریں گی جس کے لیے سات سو بہترین ورکرز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ ڈویژن کی سطح پر سکول بنائے جارہے ہیں جہاں لیول ون کی ٹریننگ ارزاں معاوضے پر مہیا کی جائے گی۔ صنعتی ورکرز کے لیب ٹیسٹ کے لیے موبائل ٹیمیں فیکٹریوں میں ہی ٹیسٹنگ کی سہولت مہیا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ سلاٹرنگ ہاؤس فوڈ پراسیسنگ کی جگہ ہیں لہذا انہیں ریگولیٹ کرنا اتھارٹی کا کام ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ اتھارٹی کا کوئی نمائندہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے جبکہ تصدیق کے بغیر کوئی بیان جاری نہیں کیا جارہا تاکہ کسی کی کاروباری ساکھ مجروح نہ ہو۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کا عالمی حجم 300ارب ڈالر ہے جس کا دس فیصد حصہ پاکستانی برآمدات میں 30ارب ڈالر اضافہ کرسکتا ہے

عبدالباسط نے مزید کہاکہ فوڈ فیکٹریوں اور ریستورانوں وغیرہ کی چیکنگ کو چھاپوں کا نام دینے اور میڈیا کوریج سے فوڈ انڈسٹری کی ساکھ خراب ہورہی ہے اور فوڈ انڈسٹری کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری ساکھ بنانے میں دہائیاں صرف ہوتی ہیں جبکہ خراب ہونے میں تھوڑی ہی دیر لگتی ہے لہذا پنجاب فوڈ اتھارٹی اس پہلوکو خاص طور پر مدنظر رکھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں لاہور چیمبر کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تعاون سے سیمینارز اور ٹریننگ پروگرامزمنعقد کرنے کو تیار ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے کہا کہ محکمہ خوراک مختلف چیمبر آف کامرس کے تعاون اور وساطت سے اس سلسلے میں ضابطہ اخلاق اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے آگاہی مہم کا آغاز کرے کیونکہ اس طرح خلاف ورزی کے کم سے کم واقعات پیش آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…