جنگ یرموک میں رومی لاکھوں کی تعداد میں تھے اور ان کے مقابلے میں مسلمان بہت تھوڑے تھے، کتابوں میں لکھا ہے کہ جیسے ایک سفید گھوڑے کے ماتھے پر کالا داغ ہوتا ہے، ایسے ہی رومیوں کے لشکر کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد تھی، جو رومی تھک جاتے تھے وہ پیچھے ہٹ جاتے اور تازہ دم لوگ آ جاتے تھے، مسلمان کئی گھنٹے ان کے ساتھ لڑتے رہے،
بالآخر جب وہ تھک گئے تو ان کا میمنہ یعنی دائیں طرف کا لشکر ذرا پیچھے کو ہٹنے لگا، مسلمان خواتین خیموں میں موجود تھیں، جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ایک صحابیہ سودأ بنت عاصمؓ ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں اور دوسری عورتوں سے کہنے لگیں:’’اری! تم کب تک خیموں میں بیٹھی رہو گی، تمہارے خاوند اور تمہارے مرد تو پیچھے ہٹ کے آ رہے ہیں۔‘‘یہ بات سنتے ہی سب عورتیں خیموں سے باہر نکل آئیں، اس وقت لبنی بنت جریرؓ کہنے لگیں: ’’اے عرب کی عورتو! تم اپنے اپنے آدمیوں کے ساتھ کھڑی ہو جاؤ اور اپنے معصوم بیٹوں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لو اور اپنے خاوندوں سے کہو کہ ہمیں اور ہمارے معصوم بچوں کو عجمی کافروں کے حوالے کرکے تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘چنانچہ مسلمان عورتوں نے عجیب بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے معصوم بیٹے ہاتھوں میں اٹھائے اور اپنے خاوندوں کو دکھا کر کہنے لگیں کہ ہمیں اور ہمارے ان معصوم بچوں کو تم کافروں کے حوالے کرکے کہاں جاؤ گے؟ جب مسلمانوں نے اپنے معصوم بیٹوں کو دیکھا تو واپس پلٹے اور انہوں نے رومیوں پر حملہ کیا۔اس موقع پر ہندہؓ بنت عتبہ بھی موجود تھیں، وہ اسلام لا چکی تھیں، وہ کہنے لگیں: ’’ہم ستاروں کی بیٹیاں ہیں اور نرم گدوں پر چلنے والی ہیں، اور تم لڑائی میں بڑھو گے تو ہم تمہیں گلے لگا لیں گی اور اگر لڑائی میں پشت دکھاؤ گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی،
ایسی جدائی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔‘‘یہ اشعار کہہ کر کہنے لگیں:’’اے ہمارے خاوندو! اگر تم آگے جا کر کامیاب ہو جاؤ گے تو ہم تمہارے لیے بستر بچھائیں گی اور تمہارا استقبال کریں گی اور اگر تم بھاگ جاؤ گے تو پھر یاد رکھنا کہ پھر ہمیں کافر اپنے قبضے میں لے لیں گے اور تمہاری غیرتوں کا جنازہ نکل جائے گا‘‘۔اس کے بعد انہوں نے اپنے خاوند ابو سفیانؓ کو دیکھا اور فرمانے لگیں:
’’اے ابن حرب! دیکھو، تم نے اپنے زمانہ کفر میں نبی کریمؐ کو تکلیفیں پہنچائیں، آج ان تکلیفوں کی مکافات کرنے کا وقت ہے، آگے بڑھو اور اپنی جان دے کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی نظر میں کامیاب ہو جاؤ‘‘۔انہوں نے ایسی اچھی باتیں کیں کہ مسلمان یہ باتیں سن کر لوٹے اور ایسا حملہ کیا کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو جنگ یرموک میں فتح عطا فرما دی، مورخین نے لکھا ہے کہ مسلمان عورتوں کا ایمان و یقین پر مشتمل یہ ایسا کارنامہ تھا کہ تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔



















































