منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

خبردار! جراثیم طاقتورہوگئے‘ پرانی بیماریاں لوٹ آئیں گی

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف جراثیم کی مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا فی الحال نہیں ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ ایک بار پھر پرانی بیماریاں لوٹ آئیں گی۔عالمی ادارہ صحت نے ایسے بیکٹیریا کی فہرست تیار کی ہے جن پر ادویات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔اس فہرست میں سب سے اوپر گرام۔منفی کے ای. کولی جیسے جراثیم ہیں جو ہسپتال میں داخل کمزور مریضوں کے خون میں جان لیوا

انفیکشن یا نمونیا پھیلا سکتے ہیں۔جرمنی میں ہونے والی جی ۔20 اجلاس سے پہلے اس فہرست میں بحث کی جائے گی۔اس کا مقصد مشکل علاج والے انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹکس تلاش کرنے کی طرف حکومتوں کی توجہ مرکوز کرنا ہے۔مضرصحت جراثیم کو کھانے والا بیکٹیریا دریافت ماہرین کئی بار انتباہ کر چکے ہیں کہ کچھ بیماریوں کا علاج موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے میں عام انفیکشن بھی جان لیوا ہو جائیں گے۔ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر مریم پال کینی کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاج کے طریقے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر کینی نے کہا کہ اگر صرف بازار پر ہی سب کچھ چھوڑ دیا گیا تو وقت رہتے نئے اینٹی بائیوٹکس تیار نہیں کیے جا سکیں گے۔ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں ایسی ہی ادویات تیار کریں گی جنہیں بنانا سستا ہے اور جن میں منافع زیادہ ہے۔ یہ نیچے لٹکتے پھل توڑنے جیسا ہے۔ٹی بی کی تشخیص میں برطانوی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت ڈبلیو ایچ او کی اس فہرست میں ٹی بی کو نہیں رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے علاج کی تلاش پہلے ہی ترجیحات میں شامل ہے۔ماہرین نے موجودہ ادویات کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کو ذہن میں رکھ کر یہ نئی فہرست تیار کی ہے۔ اس میں عالمی شرح اموات، کمیونٹیز میں انفیکشن

پھیلنے کی شرح اور صحت کی خدمات پر امراض کے باعث پڑنے والے بوجھ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔فہرست میں سب سے اوپر پر ایک کلیبسیلا نام کا بیکٹیریا بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں طاقت ور اینٹی باؤٹک ’کارباپینیمس‘ کے خلاف بھی مزاحمت کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔حال ہی میں امریکہ میں اس بیکٹریا سے متاثرہ خاتون کا ڈاکٹرز نے 26 موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے علاج کی کوشش کی لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…