جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

اپریل فول ،شاہ محمودکی پیپلزپارٹی میں واپسی ،بلاول کی منگنی ،عمران خان اورشیخ رشیدکی شادی کی افواہیں زوروں پر

datetime 1  اپریل‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی)اپریل فول کے موقع پر ملک بھرمیں ہفتہ کے روزافواہوں کا بازارگرم رہا ،سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اورسوشل میڈیا مسینجرزپرپاناما کے فیصلے ،نئے انتخابات اورنگران حکومت کے اعلان ،شاہ محمودکی پیپلزپارٹی میں واپسی ،بلاول بھٹو زرداری کی منگنی ،عمران خان اورشیخ رشیدکی شادی کی افواہیں گردش کرتی رہیں،سوشل میڈیا صارفین ان افواہوں پر دلچسپ تبصرے بھی کرتے رہے،جبکہ صورتحال سے

لاعلم بیرون ملک میں مقیم کئی پاکستانی ان جھوٹی خبروں اور افواہوں کی تصدیق کیلئے اپنے پیاروں اوردوستوں کو فون کرتے رہے ،دوسری طرف علماء کرام نے اپریل فول ڈے منانے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیا ہے تاہم مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ اپریل فول پر ایسا میسج جس میں کوئی خوشی کا پیغام ہو تواس کی اجازت دی جاسکتی ہے ،لیکن اس سے اگرکسی کی دل آزاری ہوتی ہو تو اسے توبہ کرنی چاہیے۔خبررساں ادارے آئی این پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ممتازعالم دین مفتی عبدالقوی نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ باوقارزندگی گزارتا ہے ،جھوٹ نہیں بولتا ،کیونکہ اسلامی تعلیمات ہیں کہ صداقت سے انسان کو کامیابی ملتی ہے اورجھوٹ سے انسانیت ناکام ہوتی ہے،اپریل فول میں دھوکہ دینا ،جھوٹ بولنا ایسے گناہ کبیرہ موجود ہیں جن سے اجتناب کرنا چاہیے ،اپریل فول کادن بطور مزاح اور تمسخرکے منانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے،آئی این پی سے بات چیت کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کا مزیدکہنا تھا کہ اپریل فول کے موقع پر کوئی ایسا میسج جس میں کوئی خوشی کا پیغام ہو اور اخلاقیات کے دائرہ میں ہو تواس کی اجازت دی جاسکتی ہے ،لیکن میسج بھیجنے والے کو اپنے ضمیرکے مطابق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کا یہ پیغام اخلاقیات کے دائرہ میں ہے تو درست ہے لیکن اگر اس کا میسج اخلاقیات کے دائرہ میں نہ ہو اوراس کے پیغام سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو ایسے شخص کومعافی مانگنی چاہیے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…