منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اپریل فول ،شاہ محمودکی پیپلزپارٹی میں واپسی ،بلاول کی منگنی ،عمران خان اورشیخ رشیدکی شادی کی افواہیں زوروں پر

datetime 1  اپریل‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی)اپریل فول کے موقع پر ملک بھرمیں ہفتہ کے روزافواہوں کا بازارگرم رہا ،سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اورسوشل میڈیا مسینجرزپرپاناما کے فیصلے ،نئے انتخابات اورنگران حکومت کے اعلان ،شاہ محمودکی پیپلزپارٹی میں واپسی ،بلاول بھٹو زرداری کی منگنی ،عمران خان اورشیخ رشیدکی شادی کی افواہیں گردش کرتی رہیں،سوشل میڈیا صارفین ان افواہوں پر دلچسپ تبصرے بھی کرتے رہے،جبکہ صورتحال سے

لاعلم بیرون ملک میں مقیم کئی پاکستانی ان جھوٹی خبروں اور افواہوں کی تصدیق کیلئے اپنے پیاروں اوردوستوں کو فون کرتے رہے ،دوسری طرف علماء کرام نے اپریل فول ڈے منانے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیا ہے تاہم مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ اپریل فول پر ایسا میسج جس میں کوئی خوشی کا پیغام ہو تواس کی اجازت دی جاسکتی ہے ،لیکن اس سے اگرکسی کی دل آزاری ہوتی ہو تو اسے توبہ کرنی چاہیے۔خبررساں ادارے آئی این پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ممتازعالم دین مفتی عبدالقوی نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ باوقارزندگی گزارتا ہے ،جھوٹ نہیں بولتا ،کیونکہ اسلامی تعلیمات ہیں کہ صداقت سے انسان کو کامیابی ملتی ہے اورجھوٹ سے انسانیت ناکام ہوتی ہے،اپریل فول میں دھوکہ دینا ،جھوٹ بولنا ایسے گناہ کبیرہ موجود ہیں جن سے اجتناب کرنا چاہیے ،اپریل فول کادن بطور مزاح اور تمسخرکے منانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے،آئی این پی سے بات چیت کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کا مزیدکہنا تھا کہ اپریل فول کے موقع پر کوئی ایسا میسج جس میں کوئی خوشی کا پیغام ہو اور اخلاقیات کے دائرہ میں ہو تواس کی اجازت دی جاسکتی ہے ،لیکن میسج بھیجنے والے کو اپنے ضمیرکے مطابق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کا یہ پیغام اخلاقیات کے دائرہ میں ہے تو درست ہے لیکن اگر اس کا میسج اخلاقیات کے دائرہ میں نہ ہو اوراس کے پیغام سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو ایسے شخص کومعافی مانگنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…