منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے سروس چارجز کی وصولی،چوہدری نثار نے حکم جاری کردیا

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ امیگریشن کے شعبہ کو ایف آئی اے سے الگ کرنے کیلئے ایک ہفتہ میں ورکنگ پیپرتیار کیا جائے جبکہ پاکستانیوں کی غیرملکی بیگمات کو پاکستان اوریجن کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلات حل کرنے کیلئے چیئرمین نادرا سے 24گھنٹوں کے اندر تجاویز مانگ لیں،

وزیرداخلہ نے نادرا کی طرف سے سروس چارجز کے نام پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وصول کی جانے والی فیس پر چیئرمین نادرا سے وضاحت طلب کی ، امیگریشن اور بارڈرمینجمنٹ کے محکمے پاکستان میں سمندری،فضائی اور زمینی راستوں سے آنے جانے والے غیرملکیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کریں ۔بدھ کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ،چیئرمین نادرا،چیف کمشنراسلام آباد،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد،ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کے افسران نے شرکت کی۔وزیرداخلہ نے چیئرمین نادرا کو ہدایت کی کہ پاکستان اوریجن کارڈ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے 24گھنٹوں کے اندر ٹھوس تجاویز جمع کرائی جائیں۔وزیرداخلہ نے سیکرٹری داخلہ کو کہا کہ امیگریشن کے شعبے کو ایف آئی اے الگ کرنے کیلئے ایک ہفتے کے اندر حکمت عملی مرتب کی جائے کیونکہ دنیا میں امیگریشن اور بارڈرمینجمنٹ خودمختار اور خصوصی ایریاز ہیں،اس لئے امیگریشن کو ایف آئی اے سے الگ کیا جائے گا کیونکہ ایف آئی اے کی جو بنیادی ذمہ داری ہے وہ انویسٹی گیشن اور وائٹ کالر کرائمز سے نمٹنا ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ امیگریشن اور بارڈرمینجمنٹ کے محکمے پاکستان میں سمندری،فضائی اور زمینی راستوں سے آنے جانے والوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کریں گے۔

وزیرداخلہ نے نادرا کی طرف سے سروس چارجز کے نام پربیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وصول کی جانے والی فیس پر چیئرمین نادرا سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ بتایا جائے کہ سروس چارجز کے نام پر کیوں وصولیاں کی جارہی ہیں۔اس موقع پر چیئرمین نادرانے کہا کہ 2012سے سروس چارجز کے نام پر کوئی فیس نہیں لی گئی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دورے حکومت میں اگر کسی کا کارڈ ختم ہوتا ہے تو بغیر فیس کے اس میں توسیع کردی جاتی ہے جبکہ کارڈ کی جو مجموعی فیس میں بھی کمی کی گئی ہے۔تماں موریاں میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے ایکوائرکی جانے والی زمین پر چیف کمشنر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قانون کے مطابق پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے یہ زمین ایکوائرنہیں کی جاسکتی۔وزیرداخلہ نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف سے ایکوائر کی گئی زمین سے متعلق چیف کمشنر اور سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں قانونی پوزیشن بیان کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…