منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

ملک کےمیں بہت کچھ کرسکتاتھالیکن حکمرانوں نے روک کرمجھے ایسانہیں کرنے دیا،ڈاکٹرعبدالقدیرخان

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے کہاہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کاسہراسابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکوجاتاہے جنہوں نے دنیابھرسے دشمنی لے کرایٹمی پروگرام شروع کیااورمجھ جیسے نوجوان پربھروسہ کیا۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے کہاکہ ملک کےمیں بہت کچھ کرسکتاتھالیکن حکمرانوں نے روک کرمجھے ایسانہیں کرنے دیا۔انہوں نے انکشاف کیاکہ

پاکستان نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا گیاتھا اور کم وسائل کے باوجود پاکستان کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے کہاکہ سابق صدر ضیاء الحق اور اس کے بعد سابق صدر غلام اسحاق خان کومیںنے کو تحریری طور پر بتایا کہ ایک ہفتے کے نوٹس پرہم ایٹمی بم کاتجربہ کر سکتے ہیں جس کاثبوت یہ ہے کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو ہم نے حساب برابرکردیا۔قومی سائنسدان نے کہاکہ میں نے ملک میں سستی آٹوموبائل کی انڈسٹری کی پیشکش بھی کی تھی جس سے پاکستان کواربوں ڈالرزرمبادلہ ملتالیکن حکمرانوں نے ایساکرنے سے روک دیا۔انہوں نے کہاکہ جب حکمران کوئی کام نہ کرنے دیں توایک آدمی کیاکرسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ پرویزمشرف نے غیرملکی طاقتوں کے ایماپرمجھے ہٹایااورمجھ پرالزامات لگائے ۔اس موقع پرانہوں نے واضح کیاکہ آج بھی میری گزراوقات ہالینڈمیں کی گئی نوکری سے بچت پرہوتی ہے اوراس حوالے سے میرے پاس ثبوت کے طورپر رسیدیں بھی موجود ہیں ۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان پرویزمشرف نے غیرملکی طاقتوں کے ایماپرمجھے ہٹایااورمجھ پرالزامات لگائے ۔اس موقع پرانہوں نے واضح کیاکہ آج بھی میری گزراوقات ہالینڈمیں کی گئی نوکری سے بچت پرہوتی ہے اوراس حوالے سے میرے پاس ثبوت کے طورپر رسیدیں بھی موجود ہیں جومیں کسی بھی وقت پیش کرسکتاہوں ۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…