جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

سابق آرمی چیف اگر سعودی عرب جاتے ہیں تو پاکستان میں کیا کام ہو سکتا ہے ؟ راحیل شریف کے خلاف ملک میں ہی بڑی آواز بلند ہو گئی

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کی رہنمائی میں 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے سربراہ بننے کی اجازت دینے کے فیصلے کی مخالفت کردی۔پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور

جلد پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کے 3 ارکان پارلیمنٹ شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری اور شفقت محمود کو پارلیمنٹ میں توجہ دلا نوٹس جمع کرانے کی حکمت عملی مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی جاسکے۔پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ ان کی جماعت اس موقف کی حامی تھی جہاں پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں نے مشرق وسطی کے معاملے پر پاکستان کے غیرجانب دار رہنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جنرل راحیل شریف کو این او سی جاری کرنا پارلیمنٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سابق آرمی چیف کو این او سی جاری کرنے کا فیصلہ کر بھی لیتی ہے پھر بھی اس معاملے کو دوبارہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے اور حکومت کو وجوہات بتانا ہوں گی کہ ایسا کیوں کیا گیا۔پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ 39 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بظاہر ایران کے خلاف تشکیل دیا گیا ہے، اس لیے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو اس کا کمانڈر مقرر کرنے سے ایک منفی پیغام جائے گا کہ ہمارا ملک بھی

ایران کا مخالف ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ ملک میں پہلے سے موجود شیعہ، سنی تفریق کی خلیج کو مزید گہرا کردے گا، ہماری شیعہ برادری پہلے ہی ملک میں نشانہ بنتی رہی ہے اس فیصلے سے ان میں موجود عدم تحفظ مزید بڑھ جائے گا۔اطلاعات کے مطابق فوجی اتحاد سیکیورٹی تعاون سمیت فوجیوں کی تربیت کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا جارہا ہے۔پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ مشرق وسطی کا مسئلہ مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ سپر پاور روس اور ترکی بھی شام میں خونی جنگ میں کود چکی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کے عمل سے پاکستان کے ایران، روس اور ترکی کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…