پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

رائے لئے بغیر ایئر پورٹ واقعے کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا گیا ، پیمرا اور چینلز کیخلاف قانونی کارروائی کرینگے ٗارسلان افتخار 

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق چیف جسٹس افتخا ر محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلا ن افتخار نے جدہ ایئر پورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی خبر چلانے پر پیمرا اور ٹی وی چینلز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ارسلان افتخار نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ میری رائے لئے بغیر واقعہ کو بریکنگ نیوز کی شکل میں چلایا گیا تاہم پیمرا کو اس کانوٹس لینا چاہئے ۔

میں لندن میں بیٹھا ہوں اور دل کر رہا ہے کہ جس جس چینل نے یہ خبر چلائی اس کے خلاف’’ آف کام ‘‘میں مقدمہ کروں اور اس پر ضرور قانونی کارروائی کرونگا ۔انہوں نے کہاکہ میرے والد پاکستان کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں جنہوں نے قانون کی بالادستی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا تاہم اگر آج ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے تو پھر یہاں کسی کی پرائیویسی محفوظ نہیں رہے گی ۔میں اس واقعہ پر سعودی سفارتخانے کو بھی خط لکھوں گا کہ ان کی زمین اور سعودی ایئر لائن میں یہ واقعہ ہوا ہے لہذٰااس پر کارروائی کی جائے ۔ارسلان افتخار نے کہا کہ ملک میں ویڈیو بنا کر کسی کی ذاتیات کو پامال کرنے کا رواج آگیا ہے یہ معاملہ کس طرف جائے گا ؟میں اپنی فیملی کے ساتھ عمرے پر گیا ہوا تھا، عمرے کے بعد ہم نے فیملی ایونٹ کیلئے جدہ سے لندن جانا تھا جب ہم ایئر پورٹ پر پہنچے تو سیکورٹی حکام نے چیکنگ کی اور ہم بزنس کلاس میں سوار ہونے کیلئے کھڑے ہوگئے ۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس بزنس کلاس کے بورڈنگ کارڈ ز تھے تاہم اس دوران پیچھے سے ایک لڑکے نے شور مچانا شروع کر دیا ٗمیں نے اسے بورڈنگ کارڈز بھی دکھائے اور پوچھا بھی مگر وہ کسی ایجنڈے اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ایسا کر رہا تھا ۔’’اس نے اپنے موبائل سے ویڈیو نکال لی ۔ارسلان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ہم نے اسے کچھ نہیں

کہا اور میرے والد نے بھی کہا کہ کسی کی باتوں پر غور نہ کرواور چلو ۔ ’’میرے والد نے کہا کہ میں جس منصب پر رہ چکا ہوں اس کے شایان شان نہیں کہ ہم کسی کو کچھ کہیں ‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…