جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

گوادر ،چین کاخواب حقیقت میں تبدیل ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پلاننگ کمیشن کے حکام نے کہاہے کہ گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے چینی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کا خواب حقیقت میں تبدیل ہورہاہے ۔پلاننگ کمیشن کے حکام نے بتایاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت ملک میں مواصلات کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کی جارہی ہے، ملک میں 12 ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ اس شعبہ میں

33 ارب ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران سڑکوں کے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر و ترقی کیلئے 9.5 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے جو آئندہ تین سال تک مکمل کر لیا جائے گا ۔ اس منصوبے کے تحت تین سال کے دوران 1300 کلومیٹر طویل موٹرویز بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ این 85 شاہراہ گوادر بندرگاہ کو سوراب۔کوئٹہ کے قریب نیشنل ہائی وے نیٹ ورک این 25 اورملک کے دوسرے حصوں سے ملانے پر کام مکمل ہو گیاجس کا باضابطہ افتتاح وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیاہے ، یہ منصوبہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے دوسرے ملکوں کے لئے گوادر تک رسائی کا مختصر ترین راستہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کے ملکوں کے روابط کے استحکام کیلئے کام کر رہا ہے جبکہ سی پیک کے تحت بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں اور موٹرویز کے موجودہ نیٹ ورک کی بہتری کیلئے کام کیا جا رہا ہے اور اس حوالہ سے پورے ملک میں مساوی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے، حال ہی میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے سیالکوٹ تا لاہور موٹروے کا افتتاح کیا جبکہ ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سڑکوں کے

انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ایک تا 1.5 فیصد کا اضافہ ہو گا جبکہ ملک میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت گوادر کی بندرگاہ کو ملک کے تمام شہروں کے ساتھ سڑک کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور اس وقت ملک میں موٹرویز کے 13 منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…