جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

یہ کام ہمیں ہرصورت مل کر ہی کرنا ہوگا،پاکستان نے نئی امریکی انتظامیہ کو واضح پیغام دیدیا

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی ) امریکا میں پاکستان کے نئے تعینات سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہاہے کہ قبائلی علاقوں سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا صفایا کردیاگیا ہے،پاکستان نئی امریکی انتظامیہ سے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہے،افغانستان کا عسکری نہیں سیاسی حل درکار ہے جس کے لئے پاکستان اور امریکا مل کر کردار ادا کر سکتے ہیں، پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف دہشت گردوں کی نقل و حرکت

روکنے کے لئے سرحد کی نگرانی ضروری ہے، موثر بارڈر منیجمنٹ افغانستان اور پاکستان دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے ،دنیا کیلئے آج کے پاکستان کی مثبت تعمیری حقیقت کو دیکھنا ضروری ہے ، امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہوگی ،آج پاکستان امن اور خوشحالی کے مستقبل کے راستے پر گامزن ہے اور پاکستان کے عوام ،لیڈر شپ اورسیکورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،آپریشن ضرب عضب نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے ۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے سات دہائیوں پر پھیلے ایک تاریخی اور کثیر الجہتی تعلقات ہیں۔پاکستان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوششیں کررہا ہے ۔انھوں نے کہاکہ آج پاکستان امن اور خوشحالی کے مستقبل کے راستے پر گامزن ہے اور پاکستان کے عوام ،لیڈر شپ اورسیکورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔آپریشن ضرب عضب نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا صفایا کردیاگیا ہے ۔انھوں نے کہاکہ عارضی طور پر بے گھر افراد(ٹی ڈی پیز) اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں اور فاٹا اب ملک کی سیاسی

حکمرانی کے تحت قومی دھارے میں شامل ہوچکا ہے ۔کراچی سمیت ملک کے طول و عرض میں امن لوٹ آیا ہے ۔اعزاز چوہدری نے کہاکہ امریکہ سمیت کئی اعلی حکام نے دورہ کرکے پاکستان میں امن و سلامتی کی پیش رفت کا مشاہدہ کیا ہے۔سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری اور اقتصادی اصلاحات کا نتیجہ معیشت کی بحالی کی صورت میں نکلا ہے جو اب 4.7 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے ۔تمام اقتصادی اشاریے اوپر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ توانائی کا بحران بہت جلد ہی ماضی کی بات ہو جائے گا۔ معیشت میں بہتری دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہے ۔حال ہی میں منعقد اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او)کا سربراہی اجلاس ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان رابطوں اور مشترکہ خوشحالی کے لئے علاقائی تعاون کے لئے کھڑا ہے ۔افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ افغانستان میں امن حکومت اور پاکستان کے عوام کیلئے ایک اعلی ترجیح ہے ۔انھوں نے کہاکہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنے میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہاکہ موثر بارڈر منیجمنٹ افغانستان اور پاکستان دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے

۔لندن میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اورافغان قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان حالیہ ملاقات اہم اقدام ہے جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطے اور تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے ۔نئی امریکی انتظامیہ کے لئے پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ ہم مل کر افغانستان میں دیرپا امن کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اعزاز چوہدری نے کہاکہ پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے میری ترجیحات امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مضبوط کرنا ، آگے بڑھاناہے اور امریکی سیاست میں پاکستان کے دوستوں کو اعتماد جتینا ہے ۔انھوں نے کہاکہ دنیا کیلئے آج کے پاکستان کی مثبت تعمیری حقیقت کو دیکھنا ضروری ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…