پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواحکومت کی کارکردگی،سڑکیں بنانے سے زیادہ مجھے کس چیز کی خوشی ہے؟عمران خان کا حیرت انگیزانکشاف

datetime 16  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت مجھے ایف آئی آر اور مقدمات میں دہشت گرد بنا رہی ہے ، آج کے میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کر سکتا ، کرپشن پاکستان کا نمبر ون ایشو ہے ، اداروں میں غلط لوگ لا کر ادارے تباہ کئے جا رہے ہیں ،پانامہ کیس کا فیصلہ جو بھی آئے ہم اسے قبول کریں گے ،اگر پانامہ کیس پر سیاست کرتے تو عدالت کبھی نہ جاتے ،کسی مسئلے سے جان نکالی

ہو اور اس کی اہمیت ختم کرنی ہو تو کمیشن بنا دیا جاتا ہے ،نوازشریف کا رویہ پرویز مشرف سے زیادہ آمرانہ ہے ۔وہ بدھ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے پاکستان بدل جائے گا ،پاکستان میں روزانہ 10ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور پاکستانیوں نے چارسال میں 800ارب کی دبئی میں پراپرٹی خریدی ۔عمران خان نے کہا کہ پانامہ کیس پر حکمران گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور نوازشریف کارویہ پرویز مشرف سے زیادہ آمرانہ ہے ،اسحاق ڈار نے اپنے بیان حلفی میں تسلیم کیا کہ وہ نوازشریف کیلئے منی لانڈرنگ کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ کسی معاملے کی اہمیت ختم کرنی ہو یا اس سے جان نکالنی ہو تو کمیشن بنا دیا جاتا ہے ،اگرہم نے پانامہ کیس پر سیاست کرنی ہوتی تو کبھی عدالت نہ جاتے بلکہ اس معاملے پر یونہی سڑکوں پر گھیسٹتے رہتے ،پانامہ کیس کا فیصلہ جو بھی آئے گا اسے قبول کریں گے ۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ کرپشن پاکستان کا نمبر ون ایشو ہے ،کرپشن ملک کو غریب کر دیتی ہے اور اداروں کو تباہ کر دیتی ہے ،ادارے تباہ ہوں تو ملک بھی تباہ ہو جاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر بڑے پراجیکٹ میں کرپشن ہوئی اور ہو رہی ہے ،اداروں میں غلط لوگ لا کر ادارے تباہ کئے جا رہے ہیں ،حکومت مجھے ایف آئی آر اور مقدمات میں دہشت گرد بنا رہی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ سڑکیں بنانے سے زیادہ

مجھے درخت لگانے کی خوشی ہے ،اب تک ہم نے چھانگا مانگا جیسے پانچ جنگل کے پی کے میں بنا دیئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کے میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کر سکتا ،سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد ایک فتنہ ہے اور اس کا سدباب ہونا چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…