ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

کتنے پاکستانی فوجی سعودی عرب میں ہیں؟راحیل شریف کی تقرری کیوں ہوئی؟خواجہ آصف کے انکشافات،پاکستان نے پھر انکارکردیا

datetime 16  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے سے متعلق خبروں کی تردیدکردی،ابھی تک سعودی عرب فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا،پاکستان یمن سمیت کسی بھی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا،حرمین شریفین کو خدانخواستہ کوئی خطرہ ہوا تو سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے،جنرل راحیل کی سعودیہ تقرری بھی دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ہے،وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بریگیڈ

فوج سعودی عرب بھجوانے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک سعودی عرب فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا،پاکستان یمن سمیت کسی بھی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا،حرمین شریفین کو خدانخواستہ کوئی خطرہ ہوا تو سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے،جنرل راحیل کی سعودیہ تقرری بھی دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ہے، دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق رائے ہوا تو اس میں ہمارے فوجی استعمال ہو سکتے ہیں۔ وہ بدھ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارا سعودی عرب سے 1982میں فوجیوں سے متعلق ایک معاملہ طے ہے جس کے تحت ہمارے تقریباً1200فوجی سعودیہ میں ہیں جو کبھی اس سے زیادہ اور کم ہوتے رہتے ہیں ،سعودی میں ہماری فوج قطعی طور پر کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتی ،سعودیہ کے کسی سے تنازعہ میں ہماری فوج کے استعمال کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک سعودی عرب فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا ، دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق رائے ہوا تو اس میں ہمارے فوجی استعمال ہو سکتے ہیں ،دہشت گردی سعودی عرب یا کسی بھی اسلامی ملک میں ہوئی تو لڑیں گے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ساری انسانیت کا مسئلہ ہے اس پر کوئی ابہام نہیں ہے ،سعودی عرب میں دہشت گردی ہوئی تو یقیناً پاکستان سعودیہ کی مدد

کرے گا ،جنرل راحیل کی سعودیہ تقرری بھی دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ہے ،اسلامی ممالک سے برادرانہ تعلقات ہیں ،کسی کے خلاف کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے ،سعودی عرب کی سلامتی اپنی سیکیورٹی سمجھتے ہیں ،سعودیہ کا دفاع ضرور کریں گے ۔وزیردفاع نے کہا کہ یمن تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے ، کسی بھی تنازعے میں مثبت کردار ادا کریں گے اورجانبدارانہ موقف نہیں رکھیں گے ،سعودی عرب کی اپنی سیکیورٹی بھی ہے ،فوجی الائنس پر کوئی رسمی بات نہیں ہوئی ،کوئی خدوخال بھی واضح نہیں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایک دو ماہ میں فوجی الائنس پر اجلاس ہوگا جس میں اس کی شکل واضح ہوگی ،رسمی گفتگو جاری ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ الائنس دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ حرمین شریفین کو خدانخواستہ کوئی خطرہ ہوا تو سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ یو اے ای اور قطر کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط ہیں ، ملاقاتوں کا سلسلہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کڑی ہے ، دہشت گردی کے خلاف ہم سب کو مل کر لڑنا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…