جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

کارگل تنازعہ، شمسی ایئربیس پر کس کے جہاز اڑتے تھے ؟سابق وزیرداخلہ نے نیا تنازعہ کھڑاکردیا

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ حسین حقانی کے بیان پر حکومت کو کمیشن بنانا چاہئے، امریکی دباؤ کے باوجود آصف زرداری نے نیٹو سپلائی بند کردی، تحقیقات کی جائیں شمسی ایئربیس پر کس کے جہاز اڑتے تھے ،حکومتیں کسی کے خلاف کام کرنے کی تجویز نہیں دیتیں بلکہ ایکشن لیتی ہیں‘ ویزے دینا سفیر کا اختیار ہوتا ہے‘ وزیر داخلہ کا نہیں ‘ جسٹس جاوید اقبال رپورٹ اور کارگل رپورٹ کو

منظر عام پر آنا چاہئے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف کام کرنے والا کوئی بھی ہو حکومتیں ان کے خلاف ایکشن لیتی ہ یں تجاویز نہیں دیتیں صرف حسین حقانی ہی نہیں بلکہ امریکہ کو اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دی جب فوج کو اجازت دی جاتی ہے تو فوج بھرپور طریقے سے آتی ہے یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی جنگ کا حصہ رہی انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان میں اپنے وسائل ہوائی اڈے دیئے جبکہ اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی اس حوالے سے پوچھنا چاہئے کیا یہ حقیقت نہیں کہ سپورٹ فنڈز نہیں لیتے رہے کیا انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تو ہم خوش آمدید کہیں گے میرے حوالے سے کہا گیا کہ ویزے دیئے گئے جبکہ ویزے دینا کسی ملک میں تعینات سفیر کا اختیار ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم سے بات کی جب اختیار اپنا تھا بات کرنے کا کیا مقصد پاکستان کے ادارے اتنے کمزور نہیں ڈاکٹر شکیل آفریدی نے امریکہ کا ساتھ دیا اس کو پکڑا گیا اب بھی جیل میں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قیام پذیر غیر ملکیوں کی ویزہ میں توسیع کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے میں نے امریکیوں کے ویزہ تجویز کے لئے الگ فارم بنایا بحیثیت توزیر داخلہ میرے خلاف الزامات درست نہیں اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو ٹی او آرز کے لئے مجھ سے رابطہ کیا جائے

صدر زرداری نے نیٹو سپلائی بند کی پی پی پی حکومت امریکہ کے سامنے نہیں جھکی یہاں تک کہ امریکہ کے صدر نے ملنے سے انکار کیا کہ جب تک سرحد نہیں کھلے گی ملاقات نہیں ہوگی مگر ایسا نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے

جبکہ کارگل کی رپورٹ کو بھی قوم کے سامنے لانے کی ضرورت ہے سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ ملک کی ایجیسیوں کے خلاف سازش سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے ٹرائل پر بات نہیں کرتا عدالت کا معاملہ ہے فیصلے کا انتظار کریں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…